ایران کا شام اور عراق میں فوجی کارروائیوں کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے پہلی بار یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کے بغیر پائلٹ ڈرون طیارے شام اور عراق میں دولت اسلامیہ ’داعش‘ کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل ایران کی جانب سے کہا جاتا رہا ہے کہ تہران شام اور عراق میں صرف عسکری مشاورت کی حد تک موجود ہے۔ ایرانی فوج براہ راست وہاں پر جاری لڑائی میں حصہ نہیں لے رہی ہے۔

العربیہ ٹی وی چینل کے مطابق ذرائع ابلاغ میں متعدد ویڈٰیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں۔ یہ تصاویر اور ویڈیوز سنہ 2013ء کی بتائی جاتی ہیں جن میں بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں کو عراق اور شام کی فضاؤں میں دکھایا گیا ہے۔

شام اور عراق کی جنگوں کے حوالے سے ایران کے قول وفعل میں کھلا تضاد چلا آ رہا ہے۔ تہران کا سرکاری موقف یہ ہے کہ وہ شام اور عراق میں جاری لڑائی میں براہ راست شامل نہیں، البتہ اس کے عسکری ماہرین بغداد اور دمشق میں عسکری مشاورت کے لیے مامور ہیں۔ دوسری جانب عراق کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ایرانی فوجی افسر اور سپاہی شام میں بھی باغیوں سے لڑتے ہوئے جنگی معرکوں میں ہلاک ہو رہے ہیں۔

ایران نے سرکاری سطح پر پہلی بار یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کے ڈرون طیارے شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہے ہیں۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل محمد باقری کا کہنا ہے کہ روس تہران کی ڈرون ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے اور اس کی طویل فاصلے تک کارکردگی بہتر بنانے میں بھرپور معاونت کررہا ہے۔

شام اور عراق کی فضا میں روس کے "سوخوی 24" جیٹ طیاروں کے ساتھ ساتھ ایران کے ڈرون طیارے بھی بہ کثرت دیکھے جا رہے ہیں۔ ایک فوٹیج میں ایران کے "مہاجر 4" نامی ڈرون کو "سوخوی 24" کے قریب شمالی اللاذقیہ کی فضاء میں گذشتہ جنوری میں دکھایا گیا تھا۔

اسی مہینے "مہاجر4" کو سوخوی 24 کے ہمراہ حلب کی فضاء میں جبکہ اگست میں ایرانی ڈرون طیارے "ابابیل 3" اور "شاھد 129" کو مغربی حلب کی فضاء میں پرواز کرتے دیکھا گیا۔ ایرانی ڈرون طیارہ ’’ابابیل 3‘‘ عراقی پرچم کے ساتھ پچھلے سال عراق کے سامراء کی فضاء میں پرواز کرتے دیکھا گیا تھا۔

ایران کی جانب سے شام اور عراق میں فضائی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کے ڈرون طیارے کہاں سے اڑان بھرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں