تکفیرکے خطرناک مسئلے کے سامنے انسان بے بس ہے: علماء

کفریہ اعمال کا مرتکب بھی مسلم امہ سے خارج نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی سپریم علماء کونسل نے کہا ہے کہ ’تکفیر‘ پوری دنیا کا ایک خطرناک مسئلہ ہے۔ تکفیر کے نتیجے میں دوسروں کا خون اور مال حلال کرنے، موروثیت کو روکنے اور نکاح تک فسخ کیے جاتے ہیں۔ عام لوگوں کی تکفیر کی نسبت حکومتوں کی تکفیر زیادہ خطرناک امر ہے۔ کیونکہ حکومت کی تکفیر کے بعد پورے ملک میں بدنظمی پھیلانے کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ خون خرابہ کرایا جاتا ہے اور تکفیری عناصر فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی سپریم علماء کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض ملکوں میں جاری کشت وخون اور گھروں کو بم دھماکوں سے تباہ کرنے کا عمل "سنگین جرم" ہے اور اس نوعیت کی تمام کارروائیاں گمراہ عناصر اور تکفیری فرقوں سے وابستہ شدت پسندوں کی کارستانی ہیں۔

علمائے کرام نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اسلامی اقدار کا دہشت گردی اور انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام کے نام پر دنیا میں جہاں جہاں بھی دہشت گردی ہو رہی ہے اسلام اس سے بری الذمہ ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ تکفیر ایک ایسی شرانگیز سوچ ہے جو زمین پر سب سے زیادہ خطرناک ہے اور یہ انسان کے بس سے باہر ہے۔ تکفیر کرنے والے عناصر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے اپنی نسبت جوڑ کر مرضی کے حلال اور حرام کے فیصلے صادر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کو دوسرے کی تکفیر کا کوئی حق نہیں۔ بعض کفریہ کام بھی ایسے ہیں جن کے کرنے والوں کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کیا جاتا۔

سعودی عرب کی علماء کونسل نے شام میں جاری کشت وخون اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ شامی رجیم بے گناہ لوگوں کے قتل عام کی ذمہ دار ہے جو اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی قوم کا قتل عام کررہی ہے۔ علماء کونسل نے عرب ممالک اور عالم اسلام پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں جاری لڑائی روکیں اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام کا سلسلہ بند کرائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں