پہلا صدارتی مباحثہ ہیلری نے جیت لیا: ٹی وی پول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے پہلے مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مات دے دی۔ امریکی ٹی وی کے پول کے مطابق 62 فیصد نے ہیلری جبکہ 27 فیصد نے ڈونلڈ ٹرمپ کےحق میں ووٹ دئیے۔

ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دوبدو مباحثے میں ہیلری نے بتایا کہ ہم نے 30 فیصد امریکی برآمدات میں اضا فہ کیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا میں نوکریاں ختم ہو تی جا رہی ہیں، تجارتی اور سیاسی معاہدوں کو دوبارہ دیکھنا ہو گا۔

مباحثے میں 15 -15 منٹ کے 6 سیگمینٹ رکھتے گئے تھے، ہر امیدوار کو 2 منٹ ملے، جس میں اسے اپنا جواب یا ردعمل دینا تھا، ٹرمپ نے بتایا کہ جب سے اوباما اقتدار میں آئے ہیں، 4 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اس لیے ہم کو پولیس اور کمیونٹی میں تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ پالیسیوں سے افریقی امریکی اور ہسپانوی افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ہیلری نےکہا کہ غریبوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے امیروں پر ٹیکس لگا نا ہو گا، ٹرمپ کے منصوبے غیر مساوی اور امیروں کے لیے ہیں، میرے والد چھوٹے تاجر تھے، جنھوں نے نچلی سطح سے محنت کی، میرا تجربہ ٹرمپ سے مختلف ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا میں نوکریاں ختم ہو تی جا رہی ہیں، تجارتی اور سیاسی معاہدوں کو دوبارہ دیکھنا ہو گا میرے والد سے مجھے اتنا کچھ نہیں ملا جتنا سمجھا جاتا ہے۔ میں خود سے محنت کر کے آگے بڑھا ہوں۔

ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ اپ اپنی دنیا میں رہے ہیں، نافٹا اچھی ڈیل تھی ہمیں 30 سال تو نہیں ملے مگر ہم نے خا صا کام کیا ہم نے 30 فیصد امریکی برآمدات میں اضا فہ کیا، ہم کو توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین اور دیگر ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدہ پر نظر ثانی کرنا ہو گی، وہ ہمارے ساتھ اچھا نہیں کر رہے۔ صرف ٹیکس لگا کر ہیلری کوئی بڑا کارنامہ نہیں کرسکتیں۔

ہیلری نے بتایا کہ 8 سال پہلے بدترین مالی بحران ہوا، وال اسٹریٹ کو مراعات دیں مگر وہاں مسائل دیکھے، اس بحران سے 9 ملین افراد کی نوکریاں چلی گئیں، اب 8 سال بعد معیشت بہتر ہو ئی ہے، نسلی امتیار بہت بڑا چیلنج ہے اور اسکولوں اور دفاتر میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ توانائی کے بہتر استعمال پر یقین رکھنے والا شخص ہوں ہمیں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ 30 سال تک ان معاملات پر ڈیمو کریٹ کچھ نہیں کر پائے اب سب کیسے بدل جائے گا؟ یہ سب جھوٹ ہے۔

ہیلری نے کہا کہ اس ضمن میں کئی اقدامات کرنے ہوں گے، اقلیوں اور کمیونیٹیز میں خلاء دور کر نا ہو گا۔ ہمیں کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور گن کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے عام افراد کے ہاتھ میں اسلحہ آنا خطرناک ہے۔

مباحثے کا ماحول اس وقت یکدم تبدیل ہوا، جب کلنٹن نے ٹرمپ کے انکم ٹیکس گوشواروں کا ذکر چھیڑا۔ کلنٹن نے کہا کہ ٹرمپ نے کبھی انکم ٹیکس ادا ہی نہیں کیا۔ ٹرمپ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن کی اُن نجی ای میلز کا ذکر کر ڈالا، جو انہوں نے اپنے سرکاری ای میل اکاؤنٹ سے کی تھیں۔ ٹرمپ نے اپنی حریف امیدوار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’وزارت خارجہ کے عہدے کے دوران ڈیلیٹ یا حذف کی گئی اپنی ای میلز عام کر دیں، میں انکم ٹکیس کے گوشوارے پیش کر دوں گا۔‘‘ ان کے بقول ، ’’ہمارا ملک ہلیری کلنٹن جیسے لوگوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے، جنہوں نے اپنے دور میں روزگار کی منڈی کے حوالے سے غلط فیصلے کیے ہیں۔‘‘

ماہرین کے مطابق ابتدا میں ٹرمپ نے کلنٹن پر تابڑ توڑ حملے کیے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کلنٹن کی گرفت مظبوط ہوتی گئی اور بعد میں ایسا لگ رہا تھا جیسے مباحثہ کلنٹن کی مرضی سے ہی آگے بڑھ رہا ہو۔ اس دوران کئی مرتبہ ٹرمپ کا رویہ جارحانہ تھا اور انہوں نے بار بار اپنی حریف امیدوار کی گفتگو میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ مریکی صدارتی انتخابات میں اب تقریباً چھ ہفتے باقی بچے ہیں۔ اس دوران کلنٹن اور ٹرمپ مزید دو مرتبہ ٹی وی مباحثوں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔ دوسرا مباحثہ نو اکتوبر جبکہ تیسرا انیس اکتوبر کو ہو گا۔ اندازے کے مطابق دونوں صدارتی امیدواروں کے مابین اس پہلے معرکے کو ایک سو ملین افراد نے ٹی وی پر دیکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں