تصاویر: کھیل کھیل میں بچوں کو جنگ اور تشدد سکھانے کا ایرانی حربہ

مشہد کھیل میلہ بچوں کے عسکری تربیتی مرکز میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایران کے شمال مشرقی صوبہ خراسان کے دارالحکومت مشہد میں گذشتہ دو برسوں سے بچوں کے کھیل کود کے لیے میلا سجایا جاتا ہے۔ امسال بھی یہ میلا مشہد ہی میں منعقد ہوا ہے جس میں کم سن ایرانی بچوں کو جنگ وجدل اور تشدد پر اکسانے کی تعلیم دی جاتی اور انہیں جنگی ہتھیاروں سے مانوس کرنے کےلیے کھلونا ہتھیاروں سے بہلایا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشہد میں منعقدہ بچوں کے کھیل میلے باقی دنیا کے برعکس کم سن ذہنوں کو جنگ کی طرف مائل کیا جاتا ہے اور ان کے دلوں میں جنگی ہتھیاروں سے محبت پیدا کی جاتی ہے۔ یوں مشہد میں منعقدہ کھیل میلہ کم بلکہ لڑائی کا میدان زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

میلے میں شرکت کرنے والے بچوں کو فوجی وردیاں پہنائی جاتی ہیں۔ ان کے کھیلوں کے مشاغل میں لڑائی اور پرتشدد حربے استعمال کرنا شامل ہے۔ حتیٰ کہ بچوں کے کھیل میلے میں توپیں اور ٹینکوں کے نمونے رکھے جاتے ہیں تاکہ بچے ان بھاری ہتھیاروں میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں اور آئندہ چل کر ایران کی نئی نسل بھی شدت پسندی اور جنگ کی روایتی پالیسی پر گامزن رہے۔

رواں سال ایرانی حکومت نے مشہد میں منعقدہ میلے کے لیے ’انقلابی بچوں کا اسپورٹس سٹی‘ کا عنوان منتخب کیا ہے۔ بچوں کی کھیلوں کے لیے مشہد میں ’’کوہ سنجی‘‘ کا مقام مختص کیا گیا جہاں بچوں کو متحرک اور ساکن اہداف کو نشانہ بنانے، امریکا اور اسرائیل کے فرضی پرچموں پر فائرنگ کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔

بچوں کی تعلیم تربیت کے لیے سرگرم "کارگاہ آموزشی شہر وندیار" ویب سائیٹ نے بچوں کو کھیل کود کے بجائے جنگی جنون کی تربیت فراہم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ویب سائیٹ نے استفسار کیا ہے کہ اگر آپ آٹھ سال کی عمر کے بچے میں ہتھیار پکڑاتے ہیں اور اسے ہتھیار چلانا سکھا رہے ہیں تو آپ ان بچوں کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟ مشہد کھیل میلہ کم بلکہ بچوں کے لیے جنگی مشق زیادہ لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی مشقوں کے مقاصد کیا ہیں؟

مشہد میں قائم کلچرل ہاؤس کے ڈائریکٹر حمید صادقی کہتے ہیں کہ ہم بچوں کو کھیل کھیل میں یہ سکھا رہے ہیں کہ انہیں اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔ انہیں عالمی سطح پرہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ کھیل کود میں ہو رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مشہد اسپورٹس سٹی برائے اطفال سے چند تصاویر بھی حاصل کی ہیں جن میں بچوں کو کرالنگ کرتے، دشمن پر فرضی توپوں سے گولہ باری کرتے اور ان پر فائرنگ کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔

بچوں کو صرف جنگی ہتھیاروں سے واقف کرانے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ ایران میں بچوں کے کھیل کے لیے منعقدہ تقریبات کے دوران انہیں باضابطہ فوج کی شکل دینے کی بھی تربیت دی جاتی ہے۔ بچوں کے گروپ بنائے جاتے ہیں اور ہر گروپ کو کسی بچے کی کمان میں رکھا جاتا ہے۔ ان تمام بچوں کو انقلاب کنٹرول روم سے جوڑا جاتا ہے۔ عراق، ایران جنگ کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا جس میں بچوں کو خاردار تاریں عبور کرنے، بارودی سرنگوں کے علاقوں سے گذرنے اور فرضی دشمنوں کے ساتھ مڈ بھیڑ کے گُر سکھائے گئے۔

بچوں کے کھیل کود کے مقابلوں کو فوجی تربیت کی شکل میں ڈھالنے کے ایرانی حربے کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں اور لوگ ان پر بڑھ چڑھ کر تبصرے کررہے ہیں۔ تبصرہ نگاروں نے ایرانی طرز عمل کو ’داعش‘ کے مشابہ قرار دیا جو کم سن بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کی ظالمانہ پالیسی پر قائم ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں بچوں کو تشدد اور جنگ وجدل پر اکسانے کا یہ پہلا یا منفرد حربہ نہیں بلکہ بچوں کے ذہنوں میں نفرت کے جذبات کوٹ کوٹ کر بھرنے کی ایرانی حکمت عملی بہت پرانی ہے۔

سنہ 1980ء اور 1988ء کے دوران عراق۔ ایران جنگ کے عرصے میں ہزاروں کم عمر بچوں کو جنگی تربیت دینے کے بعد انہیں جنگ کے لیے بھیجا گیا تھا۔ لڑائی کی تربیت صرف ایرانی بچوں کو نہیں دی جاتی بلکہ غیرملکی باشندوں بالخصوص افغان پناہ گزینوں کے بچوں کو بھی اسی طرح کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق بالخصوص بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایران کی بچوں کے حوالے سے اختیار کردہ حکمت عملی کو بار ہا تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایرانی عسکری گروپ فاطمیون نے بڑی تعداد میں افغان بچوں کو اپنی صفوں میں شامل کیا ہے۔ پچھلے سال سویڈن کے ایک ریڈیو پر نشر کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سویڈن اور دوسرے یورپی ملکوں میں پناہ لینے والے غیرملکیوں میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں جو اپنے عزیز واقارب کے بغیر پناہ لینے وہاں پہنچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں