یمن : دُلھن کے پریشان حال والد نے شادی کے 12 شرکاء ہلاک کردیے

مغربی صوبے اِب میں شادی کی تقریب میں اندوہ ناک واقعہ ،گھر ماتم کدے میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن میں خوشیوں بھری شادی کی تقریب ایک افسوس ناک واقعے کے بعد ماتم کدے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ہوا یہ ہے کہ دُلھن کے ذہنی طور پر پریشان حال والد نے شادی کے شرکاء پر دو دستی بم پھینکے ہیں جس سے آٹھ خواتین اور چار بچے مارے گئے ہیں اور یہ شخص خود بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

یمنی حکام کے مطابق یہ افسوس ناک سانحہ مغربی صوبے اِب میں واقع قصبے یارم میں سوموار کی شب پیش آیا ہے۔واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت اٹھارہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ان کے ایک عزیز نے بتایا ہے کہ دُلھن کا والد حزعا شرمان ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر تھا اور اس کو ذہنی عارضہ لاحق تھا۔واضح رہے کہ یمن میں آتشیں ہتھیار اور اسلحہ عام پایا جاتا ہے اور وہاں کم وبیش ہر بالغ شہری کے پاس کوئی نہ کوئی ہتھیار ضرور ہوتا ہے۔ قبائلی لوگ خاص طور پر اپنے پاس آتشیں ہتھیار رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ زدہ ملک میں لوگ ایک جانب لڑائی میں مارے جارہے ہیں اور دوسری جانب خوشی کی تقاریب بھی غم واندوہ میں تبدیل ہورہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں