.

امریکی سینیٹ میں صدر اوباما کا نائن الیون بل پر ویٹو کالعدم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ نے فیصلہ کن انداز میں صدر براک اوباما کے نائن الیون بل کو ویٹو کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا ہے۔اس طرح اس متنازعہ بل کے قانون بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

امریکی سینیٹ نے صدر اوباما کے ویٹو کو ختم کرنے کی وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان کے اس انتباہ کے باوجود بدھ کے روز منظوری دی ہے کہ اس سے امریکی فوجیوں کی جانیں اور مفادات خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

امریکا میں 8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے صرف پانچ ہفتے قبل کانگریس کے ارکان نے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں میں متاثرہ خاندانوں کو مزعومہ انصاف دلانے کے لیے اس قانون کی پر زور انداز میں حمایت کی ہے اور اس کی مخالفت سے انکار کردیا ہے۔

اس مجوزہ قانون کے تحت نائن الیون حملوں میں ہلاک ہونے والے تین ہزار افراد کے لواحقین اور زخمی افراد کے خاندان سعودی عرب کی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکیں گے اور اس کا جواز محض یہ ہے کہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر طیاروں سے حملے کرنے والے القاعدہ کے انیس ہائی جیکروں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی دوسرے خلیجی عرب ممالک اس مجوزہ قانون کی شدید مخالفت کرچکے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ محض ہائی جیکروں کے آبائی وطن ہونے کی بنا پر سعودی عرب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کوئی قانونی اور منطقی جواز نہیں ہے۔

سینیٹ کے ستانوے ارکان نے رائے شماری کے وقت صدر اوباما کے ویٹو کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے اور صرف ایک رکن نے اس کی مخالفت کی ہے۔ناں میں آنے والا یہ واحد ووٹ سینیٹ میں اقلیتی لیڈر ہیری ریڈ کا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان میں بھی بدھ کی شام صدر اوباما کے ویٹو کے خاتمے کے لیے رائے شماری متوقع ہے۔ایوان نمائندگان میں بھی منظوری کی صورت میں یہ بل قانون بن جائے گا۔واضح رہے کہ صدر اوباما کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران اس سے پہلے کانگریس نے کبھی ان کے ویٹو کو ختم نہیں کیا تھا۔

امریکی صدر کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے باوجود بعض سینیٹروں کا کہنا ہے کہ بل میں موجود اسقام سے ایک قانونی پینڈورا باکس کھل سکتا ہے اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے امریکی فوج کی کارروائیوں میں ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی صورت میں نقصانات کے ازالے کے لیے دعوے دائر کرسکتے ہیں۔

صدر اوباما نے سینیٹ کے لیڈروں کے نام منگل کو ایک خط بھیجا تھا اور اس میں کہا تھا کہ یہ بل خود مختاری کے استثنیٰ کے اصولوں کو ختم کردے گا جبکہ یہی اصول غیرملکیوں پر ہماری انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور اقدامات کے خلاف قانونی عذرداریوں پر روک لگاتے ہیں۔

لیکن اس بل کے ایک سرکردہ پیش کار ری پبلکن سینیٹر جان کارنائن نے صدر اوباما کی اس تشویش کو ناقابل اعتناء قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ ان سمیت بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کو بڑی باریک بینی سے تیار کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق صرف امریکی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں پر ہوگا۔

اس بل کی شرائط کے مطابق مجروحین اور مہلوکین کے خاندانوں کو امریکی عدالتوں میں سعودی حکومت کے عناصر کے نائن الیون حملوں میں کسی بھی قسم کے کردار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوجائے گا۔عدالتوں کو امریکی حدود کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کی صورت میں غیرملکی خود مختارانہ استثنیٰ کو ابھی از خود ختم کرنے کا اختیار حاصل ہوجائے گا۔