.

کیا اوباما ای میل میں فرضی نام استعمال کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سیاست دانوں کی جانب سے ای میل کے استعمال کے حوالے سے عموما سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب سے موجودہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کے ای میل کا اسکینڈل سامنے آیا اس کے بعد امریکی سیاسی رہ نماؤں اور حکومتی شخصیات کے ای میل سے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

اسی ضمن میں اکثر لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آیا امریکی صدرباراک اوباما ای میل پیغام میں اپنا اصل نام استعمال کرتے ہیں یا کوئی فرضی نام لکھتے ہیں؟

حال ہی میں یہ سوال وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ سے بھی پوچھا گیا مگر انہوں نے اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا صدر اوباما ای میل پیغامات میں فرضی نام استعمال کرتے ہیں تو ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’آپ کے خیال میں امریکی صدر کا ای میل ایڈریس بہت سادہ ہے‘؟۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر سمیت تمام اہم حکومتی عہدیداروں کے ای میل پیغامات کے لیے سیکیورٹی کے بھرپورانتظامات کیے جاتے ہیں۔ صدر کے زیراستعمال ای میل ایڈریس کی نشاندہی روکنے کے لیے بھی موثر اقدامات کیے جاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جوش ایرنسٹ کا کہنا تھا کہ صدر باراک اوباما کو ای میل کے ذریعے پیغامات ارسال کرنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے امریکا کے 44 ویں صدر کسی عام شخص کی طرح ای میل کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ ہر گھنٹے ہونے والے واقعات اورخبروں اور روٹین کے مسائل پر ای میل کے ذریعے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔