.

پاسداران انقلاب کی دہشت گردی.. امریکی پابندیوں کے بل کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ایک نئے بل کو زیر بحث لایا جا رہا ہے جس کا مقصد شام ، عراق ، یمن اور خطے کے ممالک میں جاری ایرانی پاسداران انقلاب کی دہشت گردی کو روکنا ہے۔

امریکی ریڈیو "وائس آف امریکا" کے مطابق ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے 12 ارکان پارلیمنٹ نے مذکورہ بل کا مجوزہ منصوبہ کانگریس میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کو پیش کیا تاکہ اس کو زیر بحث لانے کے بعد رائے شماری ہو سکے۔

اس بل پر رائے شماری ہوجانے کی صورت میں امریکی وزارت خزانہ اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ 30 روز کے اندر ایرانی پاسداران انقلاب کی ایسی سرگرمیوں کے متعلق جامع رپورٹ پیش کرے جو پاسداران کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا تقاضہ کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ وزارت خزانہ کو یہ ذمہ داری بھی سونپی جائے گی کہ وہ پاسداران انقلاب یا اس کے ذیلی اداروں اور تنظیموں سے مربوط اداروں کے حوالے سے ایک مطالعے پر بھی کام کرے۔

مذکورہ بل کا منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے عراق ، شام ، یمن اور لبنان میں خونریز مداخلتوں ، عرب ممالک میں دہشت گردی کی سپورٹ اور عراق اور شام میں شیعہ مسلح ملیشیاؤں کو اسلحے کی فراہمی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی کانگریس میں ریپبلکن ارکان ان دنوں ایران کے خلاف پابندیوں کے قانون "ڈاماٹو" کی ترمیم پر بحث کر رہے ہیں جو رواں سال کے آخر میں اختتام پذیر ہو جائے گا۔ اس دوران بعض ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنی دہشت گرد سرگرمیاں جاری رہنے کی وجہ سے تہران کے خلاف پابندیوں میں 2031ء تک مزید 11 برسوں کے لیے توسیع کر دینا چاہیے۔