.

سعودی ولی عہد کا ترک وزیراعظم سے دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف ترکی کے دو روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کی دوپہر انقرہ پہنچ گئے ہیں۔

ہوائی اڈے پر ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کا شاندار استقبال کیا۔ اپنی آمد کے فوری بعد شہزادہ محمد بن نایف نے ترک وزیراعظم سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ ،شام اور یمن کی صورت حال سمیت علاقائی امور ،ایران کے ساتھ تعلقات اور داعش کے خلاف جنگ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترک تجزیہ کار مصطفیٰ اوزجان نے العربیہ نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''سعودی ولی عہد بہت نازک وقت میں یہ دورہ کررہے ہیں۔وہ ترک قیادت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کریں گے اور ترک حکومت ان سے ترکی اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کے سمجھوتے پر دستخطوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کرے گی''۔

شہزادہ محمد بن نایف جمعے کو ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں اور تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

جولائی میں صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد ان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ترک وزارت عظمیٰ کے ماتحت ادارہ برائے فروغ سرمایہ کاری کے سینیر مشیر ڈاکٹر مصطفیٰ گوکسو نے لندن سے شائع ہونے والی عربی اخبار الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ شہزادہ محمد بن نایف ترکی کی بڑی کمپنیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سعودی عرب میں ان کی جانب سے سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے متعلق اقدامات پر بھی بات چیت کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ترک حکومت اس سال کے اختتام میں سعودی اور خلیجی کاروباری شخصیات کے لیے نئی مراعات اور سہولتوں کا اعلان کرے گی تاکہ ان کی ترکی میں سرمایہ لگانے کے لیے حوصلہ افزائی ہو۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی سات سو سے زیادہ کمپنیوں نے ترکی میں دو ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے انقرہ کا دورہ کیا تھا اور اپنے ترک ہم منصب مولود شاوس اوغلو سے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر بات چیت کی تھی۔اس کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور ترکی شام ،عراق ،یمن اور دہشت گردی سے متعلق یکساں مؤقف کے حامل ہیں۔مولود شاوس اوغلو نے ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سعودی عرب کی جانب سے صدر ایردوآن کی حکومت کی بھرپور حمایت کو سراہا تھا۔