.

کیا موسیقی بچوں کے علاج میں معاون ہے؟

ٹیکہ لگاتے وقت بچوں کو تکلیف کا احساس کم ہوتا ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موسیقی کو روح کی غذا تو صدیوں سے قرار دیا جاتا رہا ہے مگر ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موسیقی کی مدد سے ٹیکہ لگانے کی تکلیف کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن بیمار بچوں کو معمول کے مطابق ٹیکے لگانے کے لیے اسپتالوں میں لایا جاتا ہے، انہیں ٹیکہ لگاتے وقت موسیقی سنائی جائے تو وہ تکلیف کا کم احساس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جن بچوں کو انجکشن لگاتے وقت موسیقی نہیں سنائی جاتی وہ زیادہ تکیلف محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کے ساتھ آئے ان کے والدین بھی موسیقی سننے کے نتیجے میں کم سے کم پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔

بلکسنگٹن کنٹاکی یونیورسٹی سے وابستہ موسیقی کے ذریعے علاج کے ماہرہ اولیویا ینجر نے یہ تازہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ تکلیف کے دوران موسیقی جسم کو تکلیف کا احساس کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ موسیقی کی مدد سے انجکشن یا دوسری کسی قسم کی تکلیف کو ختم تو نہیں کیا جا سکتا البتہ موسیقی سنتے ہوئے تکلیف کا احساس قدرے کم ہوتا ہے۔ موسیقی سنائے جانے پر بچوں کی توجہ موسیقی کی طرف ہوتی ہے۔ اس طرح ٹیکہ لگاتے ہوئے آسانی رہتی ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی ایسی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ موسیقی سے جسمانی تکلیف ، پریشانی کم کی جاسکتی ہے اور سرجری کے عمل میں موسیقی سے مدد لی جاسکتی ہے۔

تازہ تحقیق سنہ 2011ء اور 2012ء کے دوران دو سال تک کی گئی تھی جس میں تین طبی اداروں نے حصہ لیا تھا۔ اس تحقیق میں چار سے 6 سال کی عمر کے 58 بچوں 19ماؤں اور 62 والد صاحبان کو شامل کیا گیا۔

مسز ینجر کہتی ہیں کہ بچوں کے علاج بالخصوص انجکشن کے دوران موسیقی نہ صرف بچے کو راحت و سکون پہنچاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ دیکھ بحال پر مامور والدین اور دیگر افراد کو بھی پریشانی سے کافی حد تک محفوظ رکھتی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ امراض اطفال کی ماہر ڈاکٹر میلیسا اسٹوکویل کا کہنا ہے کہ کسی بھی اسپتال میں موسیقی کے معالج کی موجودگی غیرعملی ہے کیونکہ ایسے کسی بھی کام کے لیے اضافی وقت اور اخراجات درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے اسپتالوں میں موسیقی کا اہتمام کم ہی کیا جاتا ہے۔