سعودی عرب۔ ترکی تجارتی حجم 20 ارب ڈالر متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حالیہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تجارت کےفروغ اور اقتصادی شعبے میں کئی معاہدے طے پائے ہیں جس کے نیتجے میں دو طرفہ تجارت میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ دو طرفہ تجارتی حجم 8 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جب کہ توقع ہے کہ پیش آئند چند برسوں میں ترکی اور سعودی عرب میں تجارتی حجم 20 ارب ڈالر تک جا پہنچے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے ویژن 2030ء کے تجارتی اہداف پورے کرنے کے لیے ترکی سمیت تمام دوست ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تیل کے محصولات پر کم سے کم انحصار کرتے ہوئے تجارت کے متبادل ذرائع اختیار کیے جا رہے ہیں۔ سنہ 2030ء تک ترکی اور سعودی عرب کےدرمیان تجارتی حجم 2 کھرب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کےدرمیان باہمی سرمایہ کاری کے فروغ کی رفتار سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں ملک آنے والے چند برسوں میں وسیع پیمانے پر ایک دوسرے کے تجارتی پارٹنر بن جائیں گے۔

سعودی عرب کی وزارت صنعت وتجارت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ترکی اور سعودی عرب کے در میں مجموعی طور پر 159 تجارتی معاہدے روبہ عمل ہیں۔ ان میں 41 صنعتی پروجیکٹ اور 118 غیر صنعتی منصوبے شامل ہیں۔

سعودی عرب ترکی کے لیے خلیجی ممالک میں رئیل اسٹیٹ اور سیاحت کے حوالے سے سب سے اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔ ترکی میں مختلف منصوبوں پرسعودی عرب کی 800 کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ ترکی میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ترکی سیاحت کے میدان میں سعودی سرمایہ کاروں پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔

ترکی کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ترکی میں خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری کے منافع کا حجم 6 ارب ڈالر سے متجاوز ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں ترکی کی 200 کمپنیاں کام کررہی ہیں جنہوں نے 17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ سعودی عرب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پیشہ وارانہ خدمات انجام دینے والے ترک شہریوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں