فلپائنی صدر نے خود کو منشیات فروشوں کے لیے ’ہٹلر‘ قرار دیا

منشیات کے عادی تیس لاکھ افراد کے قتل کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلپائن کے صدر اور منشیات کے دشمن روڈریگو دوتیرتے نے منشیات کا دھندہ کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے خود کو ’ہٹلر‘ سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ وہ منشیات استعمال کرنے اور اس کی خریدو فروخت میں ملوث تیس لاکھ افراد کو قتل کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ویتنام کے دورے سے واپسی پر ڈافاؤ شہرپہنچنے پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر دو تیرتے نے کہا کہ ناقدین مجھے جرمنی کے بدنام زمانہ ڈکٹیٹر ایڈوولف ہٹلر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ درست کہتے ہیں منشیات کا دھندہ کرنے والوں کے لیے میں ہٹلر ہوں۔ میں تیس لاکھ افراد کو منشیات کی وجہ سے جان سے مار دوں گا۔

دوتیرتے نے کہا کہ ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کا قتل عام کیا۔ ہمارے ہاں تین ملین منشیات فروش اور منشیات کا دھندہ کرنے والے عناصر موجود ہیں۔ مجھے ان سب کو ذبح کرکے خوشی ہوگی۔ اگر جرمنی کے پاس ایک ہٹلر تھا تو فلپائن کے پاس بھی ہٹلر ہوگا۔ پھر اپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ہی فلپائن میں منشیات کا دھندہ کرنے والوں کے لیے ہٹلر ہوں۔

صدر دو تیرتے کا کہنا تھا کہ اگر تیس لاکھ جرائم پیشہ اور منشیات فروشوں کو قتل کرکے پوری قوم کو ہلاک ہونے سے بچایا جاسکتا ہے تو یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہے۔ ہمیں تیس لاکھ منشیات فروشوں کو قوم کو بچانے کے لیے قتل کردینا چاہیے۔ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں تو محفوظ رہیں گی۔

خیال رہے کہ ایک کروڑ آبادی والےملک فلپائن میں رواں سال مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں روڈو ریگو دوتیرتے کو صدر منتخب کیا گیا تھا۔ صدر بنتے ہی انہوں نے کرپشن اور منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلانے کا اعلان کیا تھا۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران فلپائنی پولیس کے ہاتھوں 3100 افراد مارے جا چکے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مرنے والے تمام افراد منشیات فروش تھے جو پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے ہیں تاہم عالمی سطح پر فلپائنی حکومت کی اس مہم کو شک و شبے کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں جب امریکی صدر باراک اوباما نے آسیان اجلاس کے موقع پر فلپائنی صدر سے اس ضمن میں بات کرنے کا اشارہ کیا تو صدر دو تیرتے نے انہیں ننگی گالیاں دی تھیں۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے معذرت کرنے کے ساتھ کہا تھا کہ وہ مذاق کررہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں