‘جاسٹا‘ باعث تشویش، عالمی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے امریکی کانگریس کی جانب سے نائن الیون کے حملوں کے متاثرین کو مزعومہ انصاف دلانے کے لیے متنازع بل ’جاسٹا‘ کو قانون بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے واضح موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جاسٹا جیسے قوانین کی منظوری سے دوسرے ملکوں کی خود مختاری اور استثنیٰ کے اصولوں کو نقصان پہنچے گا اور اس کے نتیجے میں سیکڑوں سال سے چلے آرہے دیرینہ تعلقات بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی ’واس‘ نے ایک رپورٹ میں سعودی وزارت خارجہ کےایک ذمہ دار ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریاض امریکا میں منظور کردہ ’جاسٹا‘ قانون کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ اس طرح کے قوانین دوست ملکوں کے درمیان مخاصمت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس قانون سے دوسرے ممالک کو حاصل استثنیٰ اور خود مختاری کے اصولوں کو بھی نقصان پہنچے گا اور امریکا سمیت دوسرے ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ’جاسٹا‘ قانون کی مخالفت میں امریکی انتظامیہ، صدر کے ترجمان، وزیر دفاع، مسلح افواج کے سربراہ اور سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر نے بھی متنازع بل کی کھل کر مخالفت کی ہے مگر اس کے باوجود جاسٹا کو قانون کا حصہ بنانا باعث تشویش اور افسوسناک ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھی ’جاسٹا‘ کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ بین الااقوامی برادری نے بھی امریکی کانگریس کے متنازع بل کو مسترد کردیا ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے دسیوں ماہرین نے بھی اسے امریکا کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے اور قانون پر عمل درآمد سے امریکا کے دنیا سے تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں