حوثی ملیشیا کو اپنے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنا ہوگا: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ حوثی باغی ملیشیا کو کالعدم قرار دیے جانے تک یمن میں کوئی بھی امن معاہدہ سعودی مملکت کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا اور اس کو مسترد کردیا جائے گا۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے جنگجو غیر مسلح ہوکرکمیونٹی میں اپنے تناسب کے مطابق معمول کی سیاسی زندگی کی جانب لوٹ جائیں کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216ء میں بھی یہی صراحت کی گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ تنازعے کے سیاسی حل کی ضرورت کے باوجود سعودی عرب ایسے کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کردے گا جس میں حوثی ملیشیاؤں کو اپنے مسلح جنگجوؤں کو بدستور رکھنے کی اجازت دی گئی ہو۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے لڑاکا طیارے یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی حمایت میں حوثیوں اور ان کے اتحادی معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کررہے ہیں۔ایک اتحادی طیارے نے جمعے کے روز شمال مغربی شہر صعدہ میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ایک لیڈر کے قافلے پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اس لیڈر سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ادھر جنوب مغربی شہر تعز میں یمنی فوج نے پیش قدمی کی ہے اور اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں حوثی ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے کم سے کم بیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں