.

اٹلی : پناہ گزین بچوں کے لیے علاحدہ بیت الخلاء مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی میں ایک نجی اسکول میں دو غیرملکی بچوں کو علاحدہ بیت الخلاء استعمال کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ یہ دونوں بچے اپنے گھر والوں کے بغیر ہجرت کر کے اٹلی پہنچے تھے۔ اٹلی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اسکول کے بقیہ بچوں کے والدین نے تقاضہ کیا تھا کہ مذکورہ دونوں بچوں کو اسکول کے دیگر بچوں کے زیر استعمال بیت الخلاء میں نہ جانے دیا جائے۔

اٹلی کے جزیرہ ساردینیا کے شہر کالیاری میں واقع اس اسکول کو نصرانی راہبات چلاتی ہیں۔ نئے تعلیمی سال میں داخلہ حاصل کرنے والے ان دونوں بچوں کی عمریں 9 اور 11 برس ہیں اور ان کا تعلق مصر اور ایتھوپیا سے ہے۔

اٹلی کے روزنامے "لا ستامبا" کے مطابق متعدد طلبہ کے گھر والوں نے مذکورہ دونوں بچوں کے اسکول میں اندراج پر احتجاج کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ غیرملکی بچے اسکول کے بقیہ بچوں کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اس لیے کہ شاید وہ اپنے ملک سے کوئی متعدد بیماری کے ساتھ اٹلی میں داخل ہوئے ہوں۔

دونوں بچوں کے کسی بھی مرض میں مبتلا نہ ہونے سے متعلق طبی سرٹفکیٹ پیش کر دیے جانے کے باوجود دیگر بچوں کے گھر والوں نے اپنے بچوں کو اسکول سے نکال لینے کی دھمکی دی اور دو گھرانوں نے ایسا کر کے بھی دکھا دیا۔

اس پر اسکول انتظامیہ نے "احتیاطی تدبیر" کے طور پر دونوں پناہ گزین بچوں کے لیے علاحدہ بیت الخلاء مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔

دونوں بچوں کی تحویل کی ذمے دار دو خواتین وکیلوں میں سے ایک نے "لا ستامبا" اخبار کو بتایا کہ "اسکول میں وقفے کے دوران دونوں بچے محض اس لیے تنہائی کا شکار ہوتے ہیں کہ وہ اطالوی زبان نہیں بولتے"۔

خاتون وکیل نے مزید کہا کہ " اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر بچوں کا موقف ان باتوں کی عکاسی کرتا ہے جو وہ اپنے گھر والوں سے سنتے ہیں"۔