.

ترکی : فتح اللہ گولن کے بھائی قطب الدین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پولیس نے امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کے بھائی قطب الدین گولن کو ایک مسلح گروپ سے تعلق کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق اتوار کو قطب الدین گولن کی گرفتاری مغربی صوبے ازمیر کے ضلع غازی امیر میں ان کے ایک رشتے دار کے گھر سے عمل میں آئی ہے اور پولیس کو ان کی وہاں موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔

وہ فتح اللہ گولن کے پہلے بھائی ہیں جنھیں جولائی کے وسط میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ان پر ایک مسلح دہشت گرد گروپ کا رکن ہونے کا الزام ہے۔ان سے اب انسداد دہشت گردی پولیس پوچھ تاچھ کررہی ہے۔

ترک حکام نے فتح اللہ گولن کو 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت اور ایردوآن حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا مرکزی کردار قرار دیا تھا اور ان کی خدمت (ہزمت) تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترک حکام نے گولن تحریک کے وابستگان اور حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے اور اب تک قریباً بتیس ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں کی ایک بڑی تعداد سرکاری ملازمین ،فوجیوں ،پولیس اہلکاروں ،عدالتی حکام اور افسروں کی ہے۔

ترک میڈیا کی ماضی کی رپورٹس کے مطابق فتح اللہ گولن کے پانچ بھائی تھے۔ان میں سے دو سیف اللہ اور حسبی کا انتقال ہوچکا ہے اور تین مسیح ،صالح اور قطب الدین حیات ہیں۔ان کی دو بہنیں ہیں: نور حیات اور فضیلت۔ان کے موجودہ اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

جولائی میں حکام نے مشرقی شہر ارزروم سے گولن کے ایک بھتیجے محمد سعید گولن کو گرفتار کر لیا تھا۔ان کے ایک اور بھتیجے احمد رمیز گولن کو اگست میں جنوب مشرقی شہر غازی عنتاب سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ترکی امریکا سے علامہ فتح اللہ گولن کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے۔وہ سنہ 1999ء سے امریکی ریاست پنسلوینیا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ تمام قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی علامہ گولن کو ترکی کے حوالے کیا جائے گا جبکہ ترکی کا مطالبہ ہے کہ اس عمل کو تیزی سے پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے۔امریکا ترکی سے گولن کے خلاف ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے ثبوت بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور ترکی نے اس سلسلے میں متعدد دستاویزات امریکا کے حوالے کی تھیں۔