.

یمنی حوثی عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن گئے : عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب کے ذریعے ہونے والی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

اتحاد نے اتوار کو ایک بیان مین کہا ہے کہ حوثی شیعہ ملیشیا کے جنگجوؤں نے عدن سے معمول کے روٹ پر آنے والے متحدہ عرب امارات کے بحری جہاز پر حملہ کیا تھا۔اس جہاز کے ذریعے امدادی سامان اور ادویہ عدن پہنچائی گئی تھیں اور واپسی پر وہاں سے زخمیوں کو لایا جارہا تھا۔

عرب اتحاد کی فضائی اور بحری فورسز نے باب المندب کے نزدیک جمعے کی شب اس جہاز پر حملہ کرنے والی حوثی ملیشیا کی کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا اور امدادی کارروائی کرتے ہوئے جہاز پر سوار عام شہریوں کو بچا لیا تھا۔

عرب اتحاد نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''اس واقعے سے حوثیوں کے باب المندب میں بین الاقوامی پانیوں میں شہریوں کے خلاف دہشت گردی کے حملوں کی عکاسی ہوتی ہے''۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحر احمر سے خلیج عدن اور وہاں سے بحر ہند تک جہازوں کی آمد ورفت کا ایک اہم بحری راستہ ہے۔یہاں سے تیل اور مال بردار بحری جہاز ہو کر گزرتے ہیں۔

حوثی ملیشیا نے گذشتہ روز یواے ای فوج کے امدادی سامان لے جانے والے اس بحری جہاز کو حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔حوثیوں نے اپنے زیرانتظام سبا نیوز کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ''ایک اماراتی جنگی بحری جہاز کو بحراحمر کے کنارے واقع موخا کے ساحلی علاقے کی جانب آنے پر راکٹوں سے ہدف بنایا گیا اور اس کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے''۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق فوج نے ایک بیان میں کہا کہ کشتی ( چھوٹا بحری جہاز) جنوبی شہر عدن سے معمول کے سفر سے واپس آرہا تھااور اس کشتی کو کرائے پر لیا گیا تھا۔

اماراتی فوج نے واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع دی تھی اور نہ مزید تفصیل بتائی تھی۔اس نے یہ بھی واضح نہیں کیا تھا کہ آیا یہ جہاز تباہ ہوگیا ہے یا اس کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔البتہ اس نے کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔متحدہ عرب امارات سعودی عرب کی قیادت میں حوثی مخالف اتحاد کا حصہ ہے اور اس کے لڑاکا طیارے بھی مارچ 2015ء سے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں اور زمینی دستے بھی حوثیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔