افغان طالبان شمالی شہر قندوز میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغان طالبان نے شمالی شہر قندوز پر چاروں اطراف سے ایک بھرپور حملہ کیا ہے اور افغان فورسز کی دفاعی حصار کو توڑتے ہوئے شہر میں داخل ہوگئے ہیں۔

قندوز کے ایک سینیر پولیس افسر شیر علی کمال نے بتایا ہے کہ طالبان نے اتوار اور سوموار کی درمیان شب گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1930 بجے اپنے حملے کا آغاز کیا تھا۔اس کے بعد شہر اور اس کے نواح میں دن بھر لڑائی ہوتی رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم طالبان مزاحمت کاروں کو پسپا کرنے کے لیے ہر ممکن کوششں کررہے ہیں۔

قندوز شہر کی فضا میں فوجی ہلی کاپٹر دن بھر پروازیں کر تے رہے ہیں اور شہر سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جارہی تھیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ''قندوز کے دارالحکومت پر آج صبح چار اطراف سے ایک بھرپور حملہ کیا گیا تھا''۔

ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر کے علاقے نوا آباد اور چار چیک پوائنٹس پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور جھڑپوں میں متعدد فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کے جنگجو اس سال کے اوائل میں موسم بہار کے سالانہ حملوں کے آغاز کے بعد سے قندوز پر قبضے کے لیے متعدد بار حملے کر چکے ہیں۔انھوں نے گذشتہ سال بھی پے درپے حملوں کے بعد اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا لیکن وہ اس کو دو ہفتے سے زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکے تھے۔

انھوں نے قبل ازیں شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے چار درہ پر کنٹرول کے لیے حملہ کیا تھا اور متعدد چیک پوائنٹس کو نشانہ بنایا تھا۔گذشتہ سال بھی انھوں نے چاردرہ ہی سے قندوز پر قبضے کے لیے چڑھائی کی تھی۔ان کے قندوز پر مختصر وقت کے لیے قبضے کو امریکا کی قیادت میں مغرب کے حمایت یافتہ افغان صدر اشرف غنی کی حکومت اور اس کے تحت سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا تھا۔ طالبان جنوبی صوبے ہلمند پر قبضے کے لیے بھی افغان فورسز سے جنگ آزما ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں