.

ایران: بھاری تنخواہیں لینے والے افسران کا محاسبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری شعبے سے وابستہ بعض سینیر افسران کی بھاری بھرکم تنخواہوں اور غیرمعمولی مراعات کے سامنے آنے والے اسکینڈل میں ایک بار پھر شدت دیکھی جا رہی ہے۔ ایران نے قدامت پسند حلقوں کی طرف سےاٹھائے گئے تنخواہوں کے معاملے پر اب ریاست بھی سرگرم عمل دکھائی دیتی ہے اور لگتا ہے کہ بھاری تنخواہیں اور مالی مراعات وصول کرنے والے سیکڑوں افسران کو کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں بھاری تنخواہیں وصول کرنے والے 400 اہلکاروں کو عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں بعض بنکوں کے ایگزیکٹو حضرات جن کی تنخواہیں 22 ملین اور 600 ایرانی ریال یعنی ماہانہ 20 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی ہیں جب کہ عام ایرانی سرکاری ملازم کی تنخواہ چار سو ڈالر سے زیادہ نہیں ہے۔

حال ہی میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے بھاری تنخواہیں وصول کرنے کو سرکاری شعبے کے ماتھے پر بدنما داغ قرار دیا تھا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ان چار سو ایسے افسران کے خلاف عدالتی کارروائی کریں گے جو بھاری تنخواہیں لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 ملین ریال سے زیادہ تنخواہ لینے والے سرکاری عمال کا محاسبہ ہوگا۔

علی لاریجانی نے کہا کہ وہ غیرمعمولی تنخواہیں لینے والے افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 50 ارب ریال کی رقم قومی خزانے میں جمع کروائیں گے۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں ایران میں ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا تھا کہ بعض سرکاری ملازمین جن میں بنکوں کے ڈائریکٹرز شامل ہیں ماہانہ 60 ہزار ڈالر تنخواہ لے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں اصلاح پسندوں کی طرف سے تنخواہ اسکینڈل سامنے لانے کا مقصد صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے کیونکہ یہ اسکینڈل صدارتی انتخابات سے چند ماہ قبل سامنے آیا ہے۔