جنگ زدہ علاقوں میں اسپتالوں پر''غیر معمولی'' حملے جاری ہیں: ایم ایس ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس میں قائم ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم طبیبان ماورائے سرحد ( ایم ایس ایف) نے کہا ہے کہ شام اور یمن میں اسپتالوں اور طبی مراکز پر غیر معمولی تعداد میں حملے کیے جارہے ہیں۔

ایم ایس ایف نے یہ بیان افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں اپنے ایک اسپتال پر تباہ کن بمباری کے واقعے کا ایک سال پورا ہونے پر جاری کیا ہے۔اس فضائی حملے میں بیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا اور صدر براک اوباما کو بہ ذات خود امریکی فوجیوں کی جانب سے شہریوں کی ہلاکتوں پر معذرت کرنا پڑی تھی۔

ایم ایس ایف کی صدر مینائی نیکولائی نے کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' گذشتہ ایک سال کے دوران یمن اور شام میں ہماری تنظیم کے زیر انتظام یا اس کی معاونت سے چلنے والے ستتر مراکز صحت یا اسپتالوں پر حملے کیے گئے ہیں اوریہ اسپتال اب میدان جنگ کا حصہ بن چکے ہیں''۔

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں قندوز میں اسپتال پر ایک اے سی 130 گن شپ نے ایک گھنٹے تک بمباری کی تھی جس سے مریض اپنے بستروں پر زندہ جل گئے تھے اور بعض کے جسمانی اعضاء الگ تھلگ ہوگئے تھے۔

طبیبان ماورائے سرحد نے اس حملے کو ایک جنگی جرم قرار دیا تھا۔تاہم امریکی فوج نے اس حملے کی تحقیقات کے بعد یہ کہا تھا کہ فوجیوں نے اس مرکز صحت کو غلطی سے نشانہ بنایا تھا اور اس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہیے۔ تاہم ایم ایس ایف اس واقعے کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرچکی ہے۔

ادھر شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی علاقے میں اسدی فوج اور اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے اسپتالوں پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جارہی ہے۔

مس نکولائی کا کہنا تھا کہ ''یمن اور شام میں صحت کی تنصیبات اور عملے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔شام میں شہریوں کے لیے طبی مراکز اور ایمبولینسوں پر منظم انداز میں حملے کیے جارہے ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں