داعشی عورتیں براعظم یورپ پرخطرے کی نئی تلوار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام اور عراق میں دولت اسلامیہ ’داعش‘ کے نام سے مشہور تنظیم میں جہاں بڑی تعداد میں مقامی جنگجو سرگرم ہیں وہیں اس تنظیم کو یورپی ملکوں کے نوجوانوں اور خواتین کی بھی معاونت مل رہی ہے۔ یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کا داعش میں شامل ہونا کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔ داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے جنگجو یورپی لڑکیاں خود یورپی ملکوں کے سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دی جا رہی ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بھی داعشی عورتوں کو یورپی ملکوں کے لیے ایک بڑا خطرہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ شام اور عراق میں داعش کی صفوں میں کام کرنے والی عورتیں اگر اپنے ملکوں کو واپس جاتی ہیں تو وہ وہاں پر بدامنی پھیلانے کا موجب بن سکتی ہیں۔

پچھلے ماہ فرانسیسی پولیس نے کیتھڈرل نوٹرڈام گرجا گھر کے قریب سے ایک مشتبہ کار کو روک کر اس میں سوار تین شدت پسند لڑکیوں کو حراست میں لیا۔ گرفتار کی گئی لڑکیوں کی کار سے گیس کے سیلنڈر بھی برآمد کیے گئے۔ پولیس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ تینوں لڑکیاں ملک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہی تھی اور وہ داعش کی ہدایات پر عمل درآمد کرنے کے لئے کوشاں تھیں۔

فرانسیسی پولیس نے خواتین کا ایک سیل بھی پکڑا ہے جس میں شامل عورتیں براعظم یورپ میں داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے میں سرگرم تھیں۔ خواتین کا سیل پیرس کے ریلوے اسٹیشنوں پر دھماکوں کی منصوبہ کے ساتھ ساتھ بارودی جیکٹیں حاصل کرنا چاہتی تھیں۔

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے فرانسیسی حکام کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ خواتین شدت پسندوں کی موجودگی اور متعدد کی گرفتاری نے پولیس کو خواتین کی کڑی نگرانی پر مجبور کیا ہے۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیاہے کہ یورپی خواتین صرف ثانوی نوعیت کی کارروائیوں پر اکتفا کرنے پر تیار نہیں بلکہ وہ آگے بڑھ کرمرد جنگجوؤں کی جگہ قائدانہ کردار ادا کرنے کی خواہاں ہیں۔

یورپی ملکوں کو نشانہ بنائے جانے کی داعش کی پالیسی کے بارے میں متعدد آراء پائی جاتی ہیں۔ داعش کے ایک آلہ کار رشید قاسم کا کہنا ہے کہ اس کے گرفتار داعشی خواتین کے ساتھ رابطے ہیں۔ رشید قاسم کا کہنا ہے کہ خواتین کے ذریعے براعظم یورپ کو نشانہ بنانا داعش کی نئی تزویراتی حکمت عملی ہے۔

جنگجو رشید قاسم کا کہنا ہے کہ گرفتار کی گئی ایک داعشی جنگجو سارہ ھیرفویت کے رابطے اس جنگجو کے ساتھ بھی رہے ہیں جس نے جولائی میں ایک فرانسیسی کاہن کو ذبح کردیا تھا۔

اسی طرح آیت بولحسن نامی داعشی خاتون کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گذشتہ برس نومبر میں ہونے والے حملوں کے ماسٹر مائینڈ عبدالحمید ابا عود کے فلیٹ پرکارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں حیات بومدین نامی ایک خاتون جنگجو پچھلے سال نومبر میں پیرس میں یہود شاپنگ مال میں لوگوں کو یرغمال بنانے والے جنگجو کی بیوی قرار دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ شام فرار ہوچکی ہے۔

خواتین عناصر کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شدت پسندوں کی طرف سے کوئی نئی بات نہیں تاہم براعظم یورپ کو خواتین کے ذریعے ہدف بنانا داعش کی نئی حکمت عملی قرار دی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں