یو این اور یورپی یونین کی حلب میں امدادی مساعی

اپوزیشن کی جانب سے امدادی کوششوں کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے شمالی شہر حلب میں صدر بشار الاسد اور اس کی حلیف روسی فوج کی جانب سے وحشیانہ بمباری اور نہتے شہریوں کے قتل عام روکنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں ایک بار پھر شروع کی گئی ہیں۔ حلب میں کشت وخون روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ یورپی یونین بھی پیش پیش ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق اسٹیفن اوبرائن نے حلب میں عام شہریوں کو بمباری سے بچانے کے لیے فوری اور موثراقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ حلب میں قتل عام رکوانے کے لیے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھے گی۔ ادھر یورپی یونین کے ہائی کمشنر نے اتوار کی شام جاری کردہ ایک بیان میں حلب میں لڑائی بند کرانے اور محاصرہ زدہ مقامات تک امدادی اداروں کو ریلیف فراہم کرنے کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی وزیر فیڈریکا موگرینی اور یورپی یونین کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق خریسٹن اسٹیلیانیڈس نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ یورپی یونین نے حلب کے متاثرین کے لیے 25 ملین یورو کی رقوم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس امدادی رقم سے حلب میں جنگ سے متاثرہ شہریوں تک ادویہ، پانی اور خوراک کی فراہمی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حلب میں ریلیف کا پروگرام اقوام متحدہ کے تعاون سے عمل میں لایا گیا ہے مگر امدادی سامان کی فراہمی کے لیے حلب میں متحارب فریقین بالخصوص شامی فوج کی طرف سے بمباری روکے جانے پر منحصر ہے۔

یورپی یونین کے ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ یونین کی امدادی مساعی کا مقصد مشرقی حلب میں وحشیانہ بمباری سے متاثرہ شہریوں کو فوری اور بنیادی ریلیف فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حلب میں مسلسل بمباری کے نتیجے میں ہزاروں افراد بدترین حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہیں فوری طور پر پانی، خوراک اور ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ جنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو مقامی اسپتالوں تک پہنچانے یا وہاں سے دوسرے مقامات پر لے جانے کے لیے بھی بمباری کا سلسلہ بند کیا جانا چاہیے۔

اسٹیلیانڈس اور موگرینی نے مشرقی حلب میں جنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو وہاں سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ یورپی یونین کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ حلب میں ہرممکن امدادی کوششیں کرنے کے لیے تیارہیں مگر اس کے لیے متحارب فریقین کو بھی تعاون کرنا ہوگا۔

یورپی یونین کی جانب سے حلب میں فوری امدادی کوششوں کے اعلان پر شامی اپوزیشن کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کے امدادی اقدام کی مکمل حمایت اور تائید کرتے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جیش الحر اور ان کے نمائندہ جنگجو حلب میں متاثرین تک امداد فراہم کرنے کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

شامی اپوزیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حلب میں جنگ سے متاثرہ تمام شہریوں تک غیر مشروط طور پر امداد پہنچائی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کا دباؤ کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا۔

اپوزیشن نے جنگ کےدوران زخمی ہونے والے شہریوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور زخمیوں کو حلب سے باہر دوسرے مقامات تک پہنچانے میں مدد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ بیان میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ اسدی فوج اور اس کی حامی فورسز دانستہ طور پر حلب میں بے گناہ شہریوں کا قتل عام کررہی ہیں۔ زخمی ہونے والے شہریوں کے علاج معالجے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق اسٹیفن اوبرائن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرقی حلب میں جس وحشت اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں پر فضائی حملے کیے جا رہے ہیں ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

اتوار کے روز ایک بیان میں اوبرائن نے کہا کہ اپوزیشن فورسز شامی اور روسی فوج کی طرف سے جس وحشت اور بربریت کا سامنا کررہی ہیں وہ غیر مسبوق ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ حلب میں بلا تخصیص عام شہریوں پر بم برسائے جا رہے ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد کے عارضی کیمپوں پر آگ برسائی جا رہی ہے اور حلب کو جنہم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مندوب نے الزام عاید کیا کہ شام میں اڑھائی لاکھ عام شہریوں کے قتل عام کی ذمہ داری اسد رجیم پر عاید ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ حلب شمالی شام کا سب سے بڑا شہر ہے جو گذشتہ کئی ماہ سے اسد رجیم اور اپوزیشن فورسز کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ حلب میں جاری زمینی اور فضائی لڑائی میں ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ شہری جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں