.

ایرانی داعش میں کیوں شامل ہو رہے ہیں؟

اصلاح پسند ایرانی تجزیہ نگارکی شام بارے تہران کی پالیسی پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک اصلاح پسند تجزیہ نگار اور اپوزیشن رہ نما نے تہران سرکار کی شام اور صدربشارالاسد کی غیرمشروط حمایت پر مبنی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایرانی شہریوں کی داعش کی طرف رغبت کا ذمہ دار اپنی حکومت کو قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اصلاح پسند ایرانی رہ نما ’یداللہ اسلامی‘ نے ایک مضمون میں ایرانی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا یہ مضمون اصلاح پسندوں کی مقرب ویب سائیٹ ’انصاف نیوز‘ نے شائع کیا ہے۔ اپنے مضمون میں فاضل تجزیہ نگارنے کئی ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن کے بارے میں ایران میں عموما بات کرنے کی جرات کم ہی لوگ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے استفسار کے انداز میں کہا ہے کہ اگر ایران شام میں مداخلت نہ کرتا تو داعش ایران تک نہ پہنچتی اور ایرانی شہری داعش میں شامل نہ ہوتے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا اگر ایرانی حکومت شام میں صدر بشارالاسد کی غیرمشروط حمایت جاری نہ رکھتی تب بھی داعش ایران میں اپنے پنجے گاڑ سکتی تھی اور ایرانی داعش میں شامل ہوسکتے؟‘۔

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ کیا بشارالاسد اقتدار میں رہنے کے حق دار ہیں۔ کیا ان کا اقتدار پر فائز رہنا شام کی تباہی اور بربادی کے ساتھ فرقہ واریت اور خانہ جنگی کا موجب نہیں بن رہا؟۔ کیا ایران کے لیے شام کی دلدل سے نکلنا اب آسان رہا ہے؟۔

اصلاح پسند رہ نما اور رکن پارلیمنٹ نے لکھا ہے کہ کیا ایران نے شام میں جو جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں، ان کے ثمرات اسے حاصل ہوئے ہیں۔ کیا فرق پڑتا کہ اگر ایرانی حکومت صدر بشارالاسد کی مدد سیاسی حمایت تک محدود رکھتی۔ اگر ایران شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمانہ اور مصالحانہ کردار ادا کرتی تب بھی شام میں اسی طرح کی تباہی اور بربادی جاری ہوتی؟۔

حکومت کی شام بارے پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یداللہ اسلامی کا کہنا ہے کہ ہمارے ٹھوس اور جواب طلب سوالوں کی وضاحت کوئی نہیں کرے گا۔ ہم لوگ صرف شبہات اورقصے کہانیوں اور باطل دعووں پر یقین رکھتے ہیں۔

ایرانی تجزیہ نگار کی جانب سے ایرانی باشندوں کی داعش میں شمولیت کی بابت استفسار کیا گیا ہے مگر یہ واضح نہیں کیا کہ آیا کتنے ایرانی داعش میں شامل ہوئے۔ کیا ان میں سے کوئی پکڑا گیا یا نہیں۔ نیز ایران میں داعش میں بھرتی ہونے والے افراد کس نوعیت کی اہداف پرحملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

البتہ اسی سیاق میں گارڈین کونسل کےسیکرٹری جنرل محسن رضائی کا ایک بیان اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ داعش ایران میں جمعہ کے اجتماعات میں دھماکوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ انہوں نے یہ بات انٹیلی جنس وزیر کی جانب سے کونسل میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتائی ہے۔ تاہم ایرانی وزارت داخلہ نے محسن رضائی کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔