.

گنجے افراد پریشان نہ ہوں، سقراط اورارسطو بھی گنجے تھے!

گنجا پن ذہانت اور خود اعتمادی کی علامت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عموماً گنجے پن کا شکار لوگ بہت مایوس اور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ گنجے پن کےعلاج کے لیے مہنگے اوربالوں کی مصنوعی پیوند کاری جیسے تکلیف دہ علاج کراتے ہوئے وہ پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں گنجے پن کے علاج کے لئے آئے روز نئی نئی ادویات مارکیٹ میں لانے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں اس سب کے باوجود گنجا پن ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔

مگر العربیہ ڈاٹ نیٹ گنجے افراد کو خوش خبری سناتا ہے۔ اطمینان کی خبر یہ ہے کہ ایک تو گنجا پن انسان کی ذہانت اور خود اعتمادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ سقراط، بقراط، اورسطو، ڈارون اور شکسپئر جیسے بڑے بڑے فلاسفر اور سائنسدان بھی گنجے ہی گذرے ہیں۔

تاریخ میں بڑے بڑے حکما اور عظیم المرتبت ہستیاں بھی گنجے پن کا شکار رہی ہیں۔ جولیس سیزر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے گنجے پن سے بہت شرمندہ رہا کرتا تھا۔ اپنا گنجا پن ختم کرنے کے لیے اس نے کیا کچھ نہیں کیا۔ مگر سر پر قدرتی طور پر بال اگانے کی اس کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ وہ اپنا گنج چھپانے کے لیے گیس کا تاج پہنتا۔ جولیس سیزر کی بیوی کلو پترا نے شوہر کا گنجا پن ختم کرنے کے لیے مردہ چوہوں کا سفوف، گھوڑوں کے دانتوں کا سفوف اور ریچھ کی چربی ملنے کی تجویز پیش کی۔ اس نے اس تجویز پر بھی عمل کیا مگر بے سود۔

اکثر وبیشتر لوگ گنجے پن کا شکار ہوتے ہیں۔ دنیا میں بڑے نامی گرامی لوگ جن میں سقراط، نابلین، اورسوطو، گانڈی، ڈارون، ونسٹن چرچل، شکسپئر، بقراط اور لینن بھی گنجے ہی تھے۔

اس وقت انسانی اپنی ترقی کے معراج پرہے مگر اب تک ایسی کوئی دوائی تیار نہیں کی جاسکی جو گنجے پن کا مکمل طور پرخاتمہ کرتے ہوئے گنجے سر پر قدرتی بال اگانے کا ذریعہ بنے۔ دنیا بھر میں گنجے پن کے علاج کے لیے سالانہ 3 ارب 50 کروڑ ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ یہ رقم ریاست موناکو کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح انسداد ملیریا پر سالانہ 200 ملین ڈالر صرف کیے جاتے ہیں مگر مصنوعی بالوں کی پیوند کاری پر خرچ ہونے والی رقم اربوں ڈالر میں ہے۔

سنہ 2009ء میں رائے عامہ کے ایک جائزے میں بتایا گیا تھا کہ 60 فی صد افراد پیسے پر اپنے حسن کو ترجیح دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے دوست اور خواتین بھی خوبصورتی کو ترجیح دیتی ہیں۔ پرانے زمانے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بھاری آہنی جنگی خول سر پر پہننے سے دماغ خشک ہوجاتا ہے جو گنجے پن کا موجب بنتا ہے۔ انسان نے کچھ ترقی کی تو یہ خیال ترک کیا اور اور کہا کہ فضائی آلودگی گنجے پن کا باعث ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ گنجے پن کو روکنے کے لیے سرمنڈوانا بے سود ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں اطباء نے بتایا کہ جرثومے گنجے پن کی راہ ہموار کرتے ہیں۔