.

امریکا کا اسدی فوج کے خلاف سرجیکل اسٹرائیکس پرغور

برلن: شام کے بحران پربات چیت کے لیے پانچ ملکی اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ کی جانب سے شام میں جنگ بندی کی مساعی میں ناکامی کے بعد بشار الاسد کی وفادار فورسز کے ٹھکانوں پر محدود اہداف پر حملوں پر غور شروع کیا ہے۔

نیویارک میں العربیہ کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق آج بدھ کو جرمنی کے صدر مقام برلن میں ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں پانچ ملکوں جرمنی، امریکا، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے رہ نما شرکت کریں گے۔ اجلاس میں شام کے بحران کے حل پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران شام میں قیام امن کے لیے فرانس کی سلامتی کونسل میں مجوزہ قرارداد پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

نامہ نگار کے مطابق اس اجلاس سے قبل سب سے اہم خبر امریکا کی شام میں محدود فوجی کارروائیوں کی تیاری کی خبر ہے جسے اخبارات میں بڑے پیمانے پر جگہ ملی ہے۔ اس خبر کے مطاببق امریکی انتظامیہ شام میں سرجیکل اسٹرائیکس کارروائیوں پر غور کررہی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ شام میں اسدی فوج کے ٹھکانوں پر محدود اہداف پرحملوں کے لیے تیار ہے۔

ادھر جرمن وزارت خارجہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ منگل کے روز جرمن، امریکی، فرانسیسی، اطالوی اور برطانوی رہ نما برلن میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کا مقصد شام میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

ایک مقامی اخباری رپورٹ کے مطابق برلن میں پانچ ملکوں کے رہ نماؤں کے اجلاس کا مقصد شام میں خون خرابہ روکنا اور سیاسی عمل کےآغاز کے لیے غور وخوض کرنا ہے۔