.

انتونیو گٹریس اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے باضابطہ طور پر پُرتگال کے سابق وزیراعظم انتونیو گٹریس کو عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کردیا ہے۔ وہ عالمی ادارے کے پناہ گزینوں کے ادارے کے سابق سربراہ ہیں۔

سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک کے سفیروں نے بدھ کو متفقہ طور پر چھے مرتبہ کی رائے شماری کے بعد 67 سالہ انتونیو گٹریس کو نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان کے حق میں تیرہ رکن ممالک نے ووٹ دیا تھا اور دو ممالک کے سفیر رائے شماری کے وقت غیر حاضر رہے تھے۔

کونسل میں اس سلسلے میں آج جمعرات کو قرار داد کی منظوری متوقع ہے۔اس کے لیے پندرہ رکن ممالک میں سے نو ووٹ درکار ہوں گے اور اس کے خلاف کوئی ویٹو بھی نہیں ہونا چاہیے۔اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انھیں منتخب کرنے کے لیے رائے شماری ہوگی۔البتہ جنرل اسمبلی رائے شماری کے بغیر بھی سلامتی کونسل کے فیصلے کی توثیق کرسکتی ہے۔

مسٹر گٹریس جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے موجودہ سیکریٹری جنرل بین کی مون کی جگہ آیندہ سال کے اوائل میں عہدہ سنبھالیں گے۔ ان کے پیش رو سال کے اختتام پر بطور سیکریٹری جنرل دو ادوار پورے ہونے کے بعد سبکدوش ہورہے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں اور سابق سفارت کاروں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق پرتگیزی وزیراعظم کو ان کے حکومت اور غیر سرکاری اداروں میں کام کے تجربے اور عالمی سطح پر مہاجرین کے مسائل کے حل میں نمایاں کردار کی وجہ سے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔وہ دو عشروں تک اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین رہے ہیں۔

اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے کل تیرہ امیدوار میدان میں اترے تھے اور ان میں سات خواتین تھیں۔ان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایڈمنسٹریٹر ہیلین کلارک اور کوسٹا ریکا کی سفارت کار کرسٹینا فیگریس نمایاں تھیں اور یہ خیال کیا جارہا تھا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کیا جاسکتا ہے لیکن سلامتی کونسل میں خفیہ رائے شماری کے دوران ان میں سے کسی کے نام پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔

بہت سے تجزیہ کاروں نے مسٹر انتونیو کے دنیا بھر میں مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے کردار کو سراہا ہے۔انھوں نے 2005ء میں جب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کا عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت دنیا بھر میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کی تعداد ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ تھی لیکن جب 2015ء کے اختتام میں وہ سبکدوش ہوئے تو ان کی تعداد تین گنا بڑھ چکی تھی اور اس کی بڑی وجہ یمن ،شام اور لیبیا میں جنگیں اور مسلح تنازعات ہیں۔اب عالمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت میں انھیں شام ،یمن اور لیبیا میں جاری بحرانوں کے حل کا چیلنج درپیش ہوگا اور اس سے بھی بڑا چیلنج ان جنگ زدہ ممالک کے دوسرے ممالک میں مقیم شہریوں کی پرامن تصفیے کی صورت میں واپسی ہوگا۔