.

"جاسٹا" سے امریکا کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوگا : سابق اٹارنی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سابق اٹارنی جنرل مائیکل موکاسی نے کانگریس کی جانب سے دہشت گردی کے سرپرستوں کے خلاف انصاف کے قانون "جاسٹا" کو منظور کیے جانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ مذکورہ قانون گیارہ ستمبر کے متاثرہ خاندانوں کو جتنا فائدہ پہنچائے گا اس سے کہیں زیادہ نقصان امریکا کو پہنچے گا۔

موکاسی نے "فوكس نيوز" کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ " ہم (متاثرہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ) ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں تاہم اس سے ہر گز فائدہ نہیں ہوگا.. دو روز قبل افغانستان میں ڈرون حملے میں شہری ہلاک ہو گئے ، امریکا کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کررہا ہے.. اگر افغان یہ کہہ دیں : تم لوگوں نے ہمارے ملک میں شہریوں کو ہلاک کیا ہے.. یہ دہشت گردی شمار کی جاتی ہے.. ہم جاننا چاہتے ہیں کہ حملے کے پیچھے کون ہے.. ہم اس شخص کا نام چاہتے ہیں.. ہم آپ کی انٹیلجنس کی فائلوں کو کھنگالنا چاہتے ہیں.. تو یقینا امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا کیوں کہ یہ ہمارے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ ہیں جو کئی برسوں سے ان معلومات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں ، اگر "جاسٹا" کا قانون لاگو ہو گیا تو ان لوگوں کو بھی اسی طریقے پر معاملہ کرنے کا مناسب موقع فراہم ہو جائے گا۔

موکاسی کے مطابق گیارہ ستمبر کے حملوں سے متعلق امریکی انٹیلجنس اور خصوصی کمیٹی کی تحقیقات کے نتیجے میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ حملوں کے لیے مالی رقوم کی فراہمی میں سعودی حکومت یا یوئی سینئر سعودی ذمے دار ملوث ہے۔

موكاسی کا کہنا ہے کہ "ہمارے اور سعودیوں کے درمیان بہت قریبی تعلقات ہیں.. انہوں نے بہت بڑی تعداد میں دہشت گردی سے متعلق معاملات میں ہماری مدد کی ہے اور ان حملوں کے حوالے سے بھی انہوں نے بھرپور تعاون کیا "۔

موکاسی کے مطابق "یہ قانون گیارہ ستمبر کے متاثرین سے ہمدردی اور ان کے نقصان کے ازالے کا غلط طریقہ ہے.. یہ لوگ بھی ہر گز نہیں چاہتے کہ امریکا کو کوئی نقصان پہنچے"۔

سابق اٹارنی جنرل نے اس آرزو کا اظہار کیا کہ " نئی کانگریس کے انتخاب کے بعد اس قانون میں ایک مرتبہ پھر ترمیم کی جانی چاہیے۔ ہمارے پاس پہلے سے ایک قانون ہے جس کے ذریعے عام افرد کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر کسی غیرملکی حکومت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت مل جائیں تو وہ اس حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔ یقینا ایران کے خلاف اسی طریقے سے قانونی کارروائی مکمل کی گئی"۔

امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان "جاسٹا" قانون میں ترمیم کا عندیہ دے چکے ہیں جس کا مقصد خاص طور پر امریکی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

ادھر سعودی کابینہ نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا میں "جاسٹا" قانون کی منظوری نے عالمی برادری کے اندر گہری تشویش دوڑا دی ہے اور اس سے امریکا سمیت ریاستوں کی خودمختاری کی مامونیت کمزور پڑ جائے گی۔

مذکورہ قانون کو مسترد کرنے کے سلسلے میں عالمی سطح پر ردعمل سامنے آئے۔ ان میں جاسٹا قانون کو ممالک کے درمیان مساوات کے بنیادی اصول کے مخالف قرار دیا گیا۔ بعض جانب سے یہ بھی باور کرایا گیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کے اندر قانونی انقلاب کا سبب بن جائے گا۔ سب سے شدید ردعمل روسی وزارت خارجہ کی جانب سے آیا جس میں کہا گیا کہ امریکی کانگریس نے بین الاقوامی قانون کے حوالے سے مطلق اہانت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس قانون کو منظور کرتے ہوئے "عدالتی بلیک میلنگ" کا سہارا لیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے "جاسٹا " قانون کے خلاف امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے "ویٹو" کا اختیار استعمال کیے جانے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔