.

بغداد کی مخالفت کے باوجود ترک فوج عراق میں رہے گی: ترکی

عراق کا سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے کہا ہے کہ عراقی حکومت کی مخالفت اور تنقید کے باوجود اس کی فوجیں شورش زدہ علاقے موصل میں مکمل قیام امن تک موجود رہیں گی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ترکی کی جانب سے شام میں اپنی فوجیں موجود رکھنے سے متعلق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف بغداد حکومت امریکا کی معاونت سے موصول میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

دوسری جانب بغداد نے انقرہ پرعلاقائی جنگ چھیڑنے کے خطرات پیدا کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ بغداد سرکار کا موقف ہے کہ عراق میں ترک فوج کو برقرار رکھنے کا اعلان موصل میں داعش کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور خطے میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کے مترادف ہے۔

گذشتہ روز ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’قطع نظر اس کہ عراقی حکومت کا موقف کیا ہے ہماری فوج داعش کے خلاف لڑائی کے لیے موصل میں موجود رہے۔ موصل میں آبادی کی ترکیب تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرصورت میں ناکام بنایا جائے گا‘۔

خیال رہے کہ عراق میں موجود ترک فوجیوں کی تعداد 2000 ہے جن میں سے 500 فوجی شمالی عراق میں بعشیقہ کیمپ میں عراق جنگجوؤں کو موصل میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے عسکری تربیت دے رہے ہیں۔ عراق کے احتجاج کے باوجود ترک فوج بعشیقہ کا فوجی اڈہ استعمال کر رہی ہے۔

سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا اعلان

دوسری جانب عراق نے ترک فوج کی ملک میں موجودگی پر بہ طور احتجاج سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ بغداد حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کریں گے تاکہ ترکی کی عراق میں مداخلت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جاسکے۔ عراقی حکومت نے الزام عاید کیا ہے کہ ترکی بغداد کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا دخل اندازی کی کوشش کررہا ہے۔

اقوام متحدہ میں عراق کے مستقل مندوب محمد علی الحکیم نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد سے متعلق دی گئی ایک درخواست میں کہا ہے کہ عالمی برادری کو عراق کی سالمیت اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی عراق کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ایک اچھے پڑوسی کے بجائے عراق کے اندر اپنی فوجیں داخل کرکے اشتعال انگیزی اور خطے میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کے لیے کوشاں ہے۔

عراقی حکومت کے الزامات پر انقرہ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ عراق میں تو پہلے ہی 63 ملکوں کی افواج موجود ہیں۔ بغداد کو ہماری فوج کی موجودگی پر اعتراض کیوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے اور ریاست دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے ہرممکن اقدامات کرے گا۔ عراق میں ہمارے سپاہیوں کی موجودگی خود عراق ہی کے مفاد میں ہے۔ بغداد کو انقرہ کے ساتھ اس معاملے میں تعاون کرنا چاہیے۔

عراق نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اس بیان پربھی سخت برہمی کا اظہار کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے شیعہ ملیشیا اور کرد جنگجوؤں کی شمولیت کی اجازت نہیں ہوگی۔ کیوں کہ ترکہ کردوں کو علاحدگی پسند گروپ کردستان ورکرز پارٹی کی کا عراقی ونگ تصور کرتا ہے۔