.

ریپبلکن پارٹی کی نمائندگی کون کر رہا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ایک خاص بات جو انہیں دیگر ریپبلکن امیدواروں کی مہموں سے نمایاں کرتی ہے وہ یہ کہ ٹرمپ کو پارٹی کے اندر بھرپور تائید حاصل نہیں ہوسکی.. بلکہ انہیں اپنے ہی کیمپ میں موجود شخصیات اور کالم اور اداریے تحریر کرنے والوں کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

صدارتی انتخابات سے قبل یہ کسی بھی ریپبلکن امیدورار کی پہلی مہم ہے جس کو کسی بھی قدامت پسند اخبار یا مطبوعات کی حمایت حاصل نہیں۔ بعض معروف قدامت پسند تبصرہ نگاروں مثلا ڈیوڈ بروکس ، جارج ول اور بریٹ اسٹیفنز نے مشہور اخبارات میں ٹرمپ کے خلاف تبصرے تحریر کیے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کو سابق ریپبلکن امیدوار یا سابق ریپبلکن صدور کی سپورٹ حاصل نہیں ہے۔ 2012 کے انتخابات کے ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی نے نہ صرف ٹرمپ کی حمایت سے انکار کر دیا بلکہ ان کو شدید انداز سے لتاڑتے ہوئے بہت بڑا جھوٹا قرار دیا۔ سابق صدر بش نے بھی سیاسی اور ذاتی وجوہات کی بنا پر ٹرمپ کی حمایت کو مسترد کر دیا۔

ابھی تک ٹرمپ کی انتخابی مہم میں کوئی بھی اہم ریپبلکن شخصیت شامل نہیں ہوئی جس نے آخری تین ریپبلکن صدور رونالڈ ریگن ، جارج بش سینئر اور جارج بش جونیئر کے ادوار میں کسی نمایاں منصب پر خدمات سر انجام دی ہوں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران سکیورٹی اور عسکری شعبوں کے سابق ماہرین نے اخبارات اور ویب سائٹوں پر نشر ہونے والی متعدد پٹیشنز اور خطوط پر دستخط کیے جن میں انہوں نے ٹرمپ کے خطرناک مواقف کی بھرپور انداز میں مذمت کی جو قومی سلامتی کو شدید نقصانات پہنچائیں گے۔ بالخصوص نیٹو سے دست بردار ہونے کی دھمکی ، پرانے دوستوں سے ان کے "تحفظ" کے اخراجات کا مطالبہ ، مسلمانوں کے خلاف صریح امتیاز اور دہشت گرد تنظیموں کے انسداد کے سلسلے میں ضروریات سے عدم واقفیت شامل ہیں۔

ان میں بعض ماہرین نے تو عارضی طور پر ریپبلکن پارٹی کی وفاداری سے دست بردار ہو کو اعلان کیا ہے کہ وہ شدید تحفظات کے ساتھ ہیلری کلنٹن کے حق میں ووٹ دیں گے۔

تاہم ریپبلکن پارٹی کے دانش وروں اور چیدہ سیاسی شخصیات کا ٹرمپ اور ان کی مہم کو مسترد کر دینے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ایک جانب واشنگٹن اور نیویارک کی اشرافیہ اور دوسری جانب عام امریکی رائے دہندہ کے درمیان کوئی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے تجزیے کے مطابق انتخابات کے حوالے سے رائے عامہ کے مختلف سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر آج انتخابات ہوجائیں تو 41 فی صد سے زیادہ رائے دہندگان ٹرمپ کو صدر منتخب کریں گے جب کہ اس کے مقابل 45 فی صد لوگ ہیلری کلنٹن کے حق میں ووٹ دیں گے۔ اگرچہ واشنگٹن کی اشرافیہ اور عام شہریوں کے درمیان اس طرح کی خلیج ہمیشہ سے سابقہ انتخابات میں بھی موجود رہی ہے تاہم ریپبلکن پارٹی میں ان دونوں کیمپوں کے درمیان حالیہ انقسام کی مثال پہلے نہیں ملتی۔

آئندہ ماہ کی آٹھ تاریخ کو ہونے والے انتخابات کے نتائج سے قطع نظر ریپبلکن پارٹی میں پڑنے والی یہ دراڑ ایک طویل عرصے تک باقی رہے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو قدامت پسند مطبوعات کے اداریوں میں جب بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو ٹرمپ جوابی نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے خلاف سازش کا حصہ ہے اور اس سازش کے پیچھے ریپبلکن پارٹی کے وہ دانش ور کھڑے ہیں جو اپنا راستہ بھٹک چکے ہیں۔ چند روز قبل امریکی جریدے "دی اٹلانٹک" کی جانب سے اعلانیہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی کو بھرپور طریقے سے مسترد کیے جانے کے بعد وسیع پیمانے پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ جریدے نے ٹرمپ کو "جذبات مشتعل کرنے والا ، دوسروں سے ڈرنے والا ، خواتین کے خلاف تعصب کا حامل ، ناواقف اور جھوٹا" قرار دیا۔ اس اہم جریدے نے ہیلری کلنٹن کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ دی اٹلانٹک جریدے کے موقف کو اس حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کیوں کہ اس نے اپنی (159 سالہ) طویل تاریخ میں اس سے قبل صرف دو مرتبہ صدارتی امیدوار کے بارے میں اپنے موقف کا اعلان کیا ہے۔ پہلی مرتبہ جریدے نے 1860 میں ابراہم لنکن کے لیے اور دوسری مرتبہ 1964 میں ڈیموکریٹک امیدوارلنڈن جانسن کے لیے اپنی تائید کا اعلان کیا تھا۔

یہ درست ہے کہ اخبارات کے اداریوں اور تبصرہ نگاروں کی تائید کا رائے عامہ پر نمایاں طور اثر انداز ہونا ایک نادر امکان ہے تاہم حالیہ انتخابی سیزن ٹرمپ مخالف اداریوں کی نوعیت کے پیش نظر اس لحاظ سے مختلف ثابت ہوسکتا ہے۔ ابھی تک ٹرمپ کو کسی بھی اخبار یا جریدے کی تائید حاصل نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی ان کو کسی مخصوص ریاست میں اہم رسوخ حاصل ہوا ہے۔ یقینا اس بار ایک غیر روایتی انداز کا انتخابی سیزن دیکھنے میں آ رہا ہے۔