.

بنگلہ دیش: سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 11 مشتبہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش میں سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز دو الگ کارروائیوں کے دوران گیارہ مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔ان میں دارالحکومت ڈھاکا کے ایک کیفے میں جولائی میں قتل عام میں ملوّث کالعدم گروپ جمعیت المجاہدین کا نیا لیڈر بھی شامل ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزمان خان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ تمام ہلاک شدگان جمعیت المجاہدین جدید کے ارکان تھے۔ان میں سے سات ڈھاکا کے نواح میں واقع غازی پور کے علاقے پتر ٹیک میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ان تمام کو ہتھیار ڈالنے اور خود کو حکام کے حوالے کرنے کی پیش کش کی گئی تھی لیکن انھوں نے اس کو مسترد کردیا تھا۔

وزیر داخلہ نے مزید بتایا ہے کہ مہلوکین میں جے ایم بی کا نیا لیڈر عکاش بھی شامل ہے۔اس کو تمیم چودھری کی ہلاکت کے بعد اس جنگجو گروپ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عکاش جے ایم بی کے مقتول سرغنہ کا کوڈ نام ہوسکتا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سات مزید مشتبہ اسلامی انتہا پسندوں کو ڈھاکا کے نواح میں واقع دو صنعتی علاقوں سے چھاپا مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔انھوں نے اپنی سرگرمیوں کے لیے رقوم اکٹھا کرنے کی غرض سے ڈکیتی کی مسلح وارداتیں کی تھیں۔ان سے لوٹی گئی تمام رقم برآمد کر لی گئی ہے۔

قبل ازیں حکام کو غازی پور میں مشتبہ انتہا پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد سریع الحرکت بٹالین نے دو الگ الگ کارروائیاں کی ہیں۔اس فورس کے ترجمان مفتی محمود خان کے بہ قول غازی پور میں ایک عمارت اور ایک تین منزلہ عمارت میں ان کارروائیوں میں چار انتہاپسند کو ہلاک کردیا گیا ہے۔یہ تمام جمعیت المجاہدین کے ارکان تھے۔

جمعیت المجاہدین کا سابق لیڈر بنگلہ دیشی نژاد کینیڈین شہری تیس سالہ تمیم چودھری اگست میں فائرنگ کے ایک تبادلے میں مارا گیا تھا۔ پولیس نے ڈھاکا شہر کے نزدیک واقع نارائن گنج میں انتہا پسندوں کے ایک خفیہ ٹھکانے پر دھاوا بولا تھا اور تمیم چودھری کو ان کے دو ساتھیوں کو ہلاک کردیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ تمیم نے دارالحکومت میں ایک مشہور کیفے پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔یکم جولائی کو اس حملے میں جنگجوؤں نے بائیس افراد کو ہلاک کردیا تھا اور ان میں سے بعض کے بے دردی سے گلے کاٹ دیے گئے تھے۔

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ ( داعش) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس نے حملہ آوروں کی تصاویر بھی پوسٹ کی تھی جنھوں نے داعش کے پرچم پکڑ رکھے تھے۔تاہم بنگلہ دیشی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ داعش نہیں بلکہ جے ایم بی ڈھاکا میں اس قتل عام کی ذمے دار تھی۔