.

جنگ زدہ یمن میں ہیضہ پھوٹ پڑا : یونسیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت اطفال کے ادارے (چلڈرن فنڈ) یونسیف نے کہا ہے کہ جنگ زدہ یمن میں وبائی مرض ہیضہ پھوٹ پڑا ہے اور اس سے شیر خوار یمنی بچوں کی زندگیوں کے لیے مزید خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

یمن کے لیے یونسیف کی نمائندہ جولین ہارنیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس وبائی مرض سے یمن میں پہلے سے مسائل کا شکار بچے مزید مشکلات سے دوچار ہوجائیں گے''۔

انھوں نے کہا ہے کہ ''اگر اس وبائی مرض پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو خاص طور پر بچے مزید سخت خطرے سے دوچار ہوجائیں گے کیونکہ یمن میں جاری تنازعے کی وجہ سے صحت کا نظام پہلے ہی مسائل سے دوچار ہے''۔

یونسیف کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا اور تیسرے بڑے شہر تعز سے طبی کارکنان نے ہیضے کے متعدد کیسوں کی اطلاع دی ہے۔یمن میں ٹیمیں ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر ہیضہ کی وبا پھوٹ پڑنے کے اسباب کے تعیّن کے لیے کام کررہی ہیں۔

ہیضہ عام طور پر آلودہ پانی پینے سے پھیلتا ہے اور بچے زیادہ تر اس کا شکار ہوتے ہیں۔انھیں قے اور دست آنا شروع ہوجاتے ہیں۔یونسیف کا کہنا ہے کہ اگر ایسے کیسوں کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو ان میں سے پندرہ فی صد مہلک ثابت ہوسکتے ہیں اور مریض پانی کی کمی کا شکار ہوکر موت کے مُنھ میں جاسکتے ہیں۔

اس عالمی ادارے کے مطابق یمن میں اس وقت قریبا تیس لاکھ افراد کو فوری خوراک کی ضرورت ہے جبکہ پندرہ لاکھ یمنی بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔ ان میں تین لاکھ ستر ہزار کو شدید کم خوراکی کا سامنا ہے جس سے ان کی قوت مدافعت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ نے بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں سے یمن میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے فنڈز مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔