.

یمن: باغیوں کے خلاف عوام نے علم بغاوت بلند کردیا

کل اتوار کو باغیوں کے مظالم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں 21 ستمبر 2014ء کو ملک میں احتجاج کی آڑ میں مسلح حوثی باغیوں کے ہاتھوں آئینی حکومت کے خاتمے کو دو سال ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب ملک میں مظالم جاری رکھنے پر یمنی عوام بھی باغیوں کے خلاف پھٹ پڑے ہیں اور انہوں نے کل اتوار کو حوثی باغیوں کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کے صدر مقام صنعاء میں پچھلے دو سال میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا ایسا احتجاجی مظاہرہ ہے جس میں تمام عوامی حلقوں کی طرف سے شمولیت کا اعلان کیا گیا ہے۔

باغیوں کے مظالم اور بربریت، شہریوں پر بھوک مسلط کرنے، آئینی حکومت کے خلاف جنگ اور قومی معیشت کو تباہ کرنے کے خلاف سوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر، فیس بک اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائیٹس پر باغیوں کے خلاف جاندار سوشل میڈیا مہم جاری ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر جاری مہمات میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ باغیوں کی بربریت اور عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کےخلاف کل سڑکوں پر نکل کراپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ اس ضمن میں مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹویٹر‘ پر ’’انا نازل#‘‘ [میں آ رہا ہوں] کے عنوان سے مہم جاری ہے جس میں عوامی اور سماجی حلقے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

سرکاری ملازمین بھی احتجاج میں شامل

سماجی تنظیموں کی طرف سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ باغیوں کے خلاف کھل کرعلم بغاوت بلند کریں اور خوف کی دیوار توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں۔ سماجی تنظیموں کے کارکنان کا کہنا ہے کہ باغیوں کی طرف سے عوام پر بھوک ، ننگ اور افلاس مسلط کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ شہریوں کے گھروں پر بمباری کر کے انہیں تباہ کیا گیا۔

یمن میں عوام کی طرف سے باغیوں کے خلاف شروع کی گئی بغاوت کی تحریک میں سرکاری ملازمین بھی پیش پیش ہیں جنہیں پچھلے کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔ تنخواہوں سے محروم سرکاری ملازمین پہلے بھی احتجاج کرتے رہے ہیں۔ سماجی تنظیموں کے احتجاج میں انہوں نے بھرپور حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی سرکاری ملازمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ باغیوں کی طرف سے طاقت کے استعمال سے خوف زدہ نہیں۔ اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرنا ان کا بنیادی حق ہے اور وہ ہرصورت میں صنعاء کی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔

مقامی صحافی اور تجزیہ نگار احمد الرمعی کا کہنا ہے کہ آج ہم حوثی باغیوں کی وجہ سے محاصرے اور جنگ کی زد میں ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ شام میں جاری جنگ یمن کی جنگ سے زیادہ خطرناک اور خوفناک ہے مگر اس کے باوجود شام میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں روکی گئیں۔