.

امریکی حکومت نے یاہو میل سے کیا مطالبہ کیا تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں سینیٹ کے ایک رکن اور نگرانی کی کارروائیوں کو نکتہ چینی کا نشانہ بنانے والی شہری جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2015 میں ایک خفیہ عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے کو منظر عام پر لے کر آئے۔ مذکورہ فیصلے میں عدالت نے یاہو کمپنی کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے صارفین کی تمام آنے والی ای میلوں کی جانچ کرے۔ مطالبین کا کہنا کے کہ ایسا نظر آتا ہے کہ اس حکم نامے میں کم از کم دو اہم قانونی امور سے متعلق نئی تشریحات شامل ہیں۔

مطالبین کے اندیشوں کا محور عدالت کی جانب سے یاہو کمپنی سے مانگی گئی فنی معاونت کی نوعیت اور جانچ کی حدود ہیں جس کے بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ای میل کی جانچ میں سلیکون ویلی میں واقع کمپنی کے پورے نیٹ ورک کو شامل کیا گیا۔

یاہو نے کروڑوں صارفین کی ذاتی ای میلوں کی جانچ کے لیے ایک خصوصی سافٹ ویئر نصب کیا۔ یہ اقدام ایک خفیہ عدالت Foreign Intelligence Surveillance Court کے حکم پر کیا گیا۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان واقعات سے آگاہ تین سابق ملازمین اور ایک چوتھے شخص نے بتایا کہ وہ ایسی ای میلوں کو تلاش کر رہے تھے جو ڈیجیٹل مواد کے ایک انفرادی ٹکڑے پر مشتمل تھیں۔

انٹیلجنس ذمہ داران کے مطابق یاہو کمپنی سے مطلوب امر یہ صرف یہ تھا کہ وہ اپنے نظام میں ترمیم کرے تاکہ کمپنی کے سرور کے راستے ای میلوں کے ذریعے بچوں کی فحش تصاویر ارسال نہ کی جاسکیں یا غیر مطلوب ای میلوں کو چھانٹ لیا جائے۔

تاہم فحش مواد کے فلٹر صرف وڈیو اور غیرمتحرک تصاویر کو جانچ سکتے تھے اور متن کو تلاش کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا جیسا کی یاہو نے کیا۔

دوسری جانب یاہو نے عدالت کے حکم پر تلاش کی کارروائی ایک یونٹ کے ذریعے کی جس کو Linux kernel آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔ یاہو کے سابقہ تین ملازمین کے مطابق بعد ازاں اس یونٹ کو یاہو کے ای میل سرور کے مقام سے بہت دور انتہائی گہرائی میں دفن کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہ جاننا انتہائی دشوار ہوگیا کہ مذکورہ سافٹ ویئر درحقیقت کس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔