.

’تولیدی مادہ عطیہ کرنے والا امریکی 100 بچوں کا باپ بن گیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں عطیات کی کئی قسمیں ہیں۔ بعض لوگ اپنے جسمانی اعضاء کے عطیہ کی وصیت کرتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کے اعضاء عطیہ کردیے جاتے ہیں۔ مگرامریکا میں ایک شخص اپنا مادہ تولید عطیہ کرتا ہے۔ وہ یہ کام پچھلے چار سال سے کررہا ہے اور اس طرح وہ اپنے سپرم [منی] سے پیدا ہونے والے 100 بچوں کا باپ بن چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں اپنا تولیدی مادہ عطیہ کرنے والے شخص پرروشنی ڈالی ہے۔ 37 سالہ میٹ اسٹون کا آبائی تعلق امریکی ریاست شمالی کیرولینا سے ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تولیدی مادے سے [سپرم] سے اب تک ایک سو بچوں کا باپ بن چکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی منی ان ماں باپ کو عطیہ کرتا ہے جن کے سپرم بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ سپرم عطیہ کرتے ہوئے وہ کئی امور کی باریک بینی سے چھان بین کرتا ہے اور کچھ شرائط کے بعد اپنا تولیدی مادہ عطیہ کرتا ہے۔ میٹ کا کہنا ہے کہ اسے خوشی ہے کہ وہ ایک سو خاندانوں میں بچے پیدا کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔

اس نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر اسی مقصد کے لیے ایک خصوصی صفحہ بھی بنا رکھا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ اس کے عطیے کو پسند کرتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے روزانہ اوسطا دس فون کالز موصول ہوتی ہیں جن میں لوگ مجھ سے سپرم عطیہ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سپرم ڈونر کا کہنا ہے کہ میں اولاد سے محروم ایسے ماں باپ کو اپنا سپرم عطیہ کرتا ہوں جن کے باہمی تعلقات بہت اچھے ہوں۔ ان کے معاشی حالات بھی بہترہوں اور وہ بچوں کی صحیح نگہداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وہ پچھلے چار سال سے ایک ہفتے کے دوران 8 بار سپرم عطیہ کرتا ہے۔

میٹ اسٹون کا کہنا ہے کہ جب اسے مصدقہ طور پرمعلوم ہوا کہ اس کے تولیدی مادے سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 70 ہوگئی ہے تو وہ بہت خوش ہوا مگر ساتھ ہی تہیا کیا کہ وہ ایک سو سے زاید بچے پیدا کرے گا۔

میٹ کا کہنا ہے کہ وہ سپرم عطیہ کرنے کی کوئی قیمت وصول نہیں کرتا اور مکمل طور پرمفت خدمات فراہم کررہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے سپرم ڈونیٹ کرنے کا خیال اس وقت آیا جب کچھ عرصہ قبل میں نے ایک سپرم ڈونر بنک میں کام شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ میں اپنے طور پربھی یہ خدمت انجام دے سکتا ہوں۔ اس کا کہنا ہے کہ میری عمر بھی 37 برس ہے اور میں 45 سال کی عمر تک مزید بچے پیدا کرنے میں ایسے جوڑوں کی مدد کرسکتا ہوں جو اولاد سے محروم ہیں۔