.

شام میں لڑنے سے انکار پرعرب ایرانی فوجی افسر قتل

ایران میں بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے سے انکار کی سزا موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں جنگ میں شمولیت سے انکار پرایرانی حکام نے صوبہ اہواز سے تعلق رکھنے والے ایک عرب فوجی افسر کو اذتیں دے کر قتل کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے ایران کے عرب اکثریتی صوبہ الاھواز سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی افسر 27 سالہ محمد رضا الحمیداوی کو حراست میں لیا اور شام میں لڑنے سے انکار کی پاداش میں تشدد کرکے قتل کردیا ہے۔

الحمیداوی ایرانی فوج میں جونیر افسر تھا۔ اس کے بارے میں سامنے آنے والی دیگر معلومات میں بتایا گیا ہے کہ مقتول شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ بھی تھا۔ اسے کچھ عرصہ قبل شام میں لڑائی کے لیے بھیجنے کافیصلہ کیا گیا تو اس نے صاف انکار کردیا تھا۔ اس پر اسے گرفتار کرلیا گیا اور دوران حراست ایرانی انٹیلی جنس حکام نے اسے تشدد کرکے قتل کردیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتول محمد رضا حمیداوی کا جسد خاکی گذشتہ سوموار کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا جہاں پولیس اور فوج کی بھاری نفری کے محاصرے میں اس کی تدفین کی گئی۔ مقتول کے اہل خانہ نے جنوب مشرقی اھواز کے الشکریات کے علاقے میں ایک تعزیتی کیمپ بھی لگایا جس کے آس پاس ایرانی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق الحمیداوی کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ اس کی گردن، ہاتھوں، پاؤں اور جسم کے بعض دیگر اعضاء کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی اور جسم پر گہرے زخم تھے۔ ایرانی فوجیوں نے عرب اہلکار کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کی موت کی متعدد وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ ایک دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ ہاٹ اٹیک سے ہلاک ہوا جب کہ اس کے جسم پر لگے زخم صاف بتاتے ہیں کہ وحشیانہ تشدد سے اس کی موت واقع ہوئی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کا الحمیداوی کے ساتھ کئی ماہ سے رابطہ نہیں تھا۔ انہوں نے حکام سے رابطہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی مگرانہیں خاموش رہنے کی تلقین کی جاتی۔