صنعاء کی تعزیتی مجلس کا واقعہ "نیچ سازش" ہے: اہل خانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں آل الرویشان خاندان اورخولان الطیال کے قبائل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے صنعاء کے بڑے ہال میں جو کچھ ہوا وہ ایک انتہائی نیچ سازش اور تمام تر اقدار کے منافی ہے۔

بیان میں تمام یمنیوں اور جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے عزیز و اقارب سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے عنقریب کی جانے والی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ، ان نتائج کی بنیاد پر آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

یمن میں آئینی حکومت کی سپورٹ کرنے والا عرب اتحاد صنعاء میں ہونے والے دھماکے کے مقام پر کسی بھی فضائی پرواز کی تردید کر چکا ہے۔ اتحاد نے دھماکے کے پیچھے دیگر وجوہات کے بارے میں سوچنے پر زور دیا۔

عرب اتحاد کی قیادت نے صنعاء میں ہفتے کے روز پیش آنے والے افسوس ناک اور الم ناک واقعے کا نشانہ بننے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ قیادت کے مطابق اس کی افواج کے پاس شہری ٹھکانوں کو نشانہ نہ بنانے کی واضح اور صاف ہدایات ہیں۔

اتحاد کی قیادت نے یہ بھی بتایا تھا کہ امریکی ماہرین کے تعاون سے واقعے کی فوری تحقیق کی جائے گی اور تحقیقاتی ٹیم کو اس روز اتحادی افواج کی عسکری کارروائیوں سے متعلق تمام تر تفصیلات فراہم کی جائیں گی اور تحقیقات کے ختم ہونے کے فوری بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

ہفتے کے روز یمنی دارالحکومت صنعاء کے ایک سب سے بڑے ہال میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کی عسکری اور سیاسی قیادت میں شامل درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

"العربیہ" نیوز چینل کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 80 سے تجاوز کر گئی۔ ان میں صنعاء کے سکریٹری اور معزول صدر کی جماعت کے رہ نما عبدالقادر ہلال اور باغیوں کے سیاسی دفتر کے رکن اور حوثی کمانڈر مبارک المشن الزايدی کے علاوہ باغی قیادت کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

یمنی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ تعزیتی مجلس میں ہونے والا دھماکا درحقیقت نئی سیاسی کونسل کے بعد حلیفوں کے اندرونی حساب بے باق کرنے کا نتیجہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں