.

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر بننے پر ہلیری کلنٹن کو جیل بھیجنے کی دھمکی

11 سال پرانی نازیبا گفتگو پر مشتمل ویڈیو کے بعد ری پبلکن امیدوار کی گھن گرج جاتی رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ خواتین کے بارے میں اپنی قابل اعتراض نازیبا گفتگو منظرعام پر آنے کے بعد دوسرے صدارتی مباحثے میں قدرے دبکے ہوئے تھے لیکن وہ اپنی حریف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے خلاف ہرگز بھی اپنی گل افشانی گفتار پر نادم نظر نہیں آئے اور وہ ان پر برابر تابڑ توڑ حملے کرتے رہے ہیں۔انھوں نے اس مباحثے میں یہ تک کہہ دیا ہے کہ وہ اگر صدر منتخب ہوگئے تو ہلیری کلنٹن کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے پرائیویٹ ای میل سرور استعمال کرنے پر جیل بھیج دیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے درمیان واشنگٹن یونیورسٹی ،سینٹ لوئیس میں اتوار کی شب دوسرا صدارتی مباحثہ ہوا ہے۔دونوں حریف صدارتی امیدواروں نے ایک دوسرے خلاف سوقیانہ حملے کیے ہیں اور کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔ان کے درمیان تلخی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے مباحثے کے آغاز میں ایک دوسرے سے روایت کے برعکس مصافحہ بھی نہیں کیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد ایک خصوصی پراسیکیوٹر کا تقرر کریں گے اور وہ ان کی حریف کے نجی ای میل کے استعمال کا معاملہ دیکھیں گے کیونکہ انھوں نے 2009ء سے 2013ء تک امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے قومی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا تھا۔

90 منٹ تک جاری رہنے والے اس مباحثے کا آغاز ذرا دھیمے انداز میں ہوا تھا اور پھر دونوں امیدواروں کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ کی 2005ء کی ایک ویڈیو پر تندوتیز گفتگو ہوئی ہے۔یہ ویڈیو گذشتہ جمعہ کو منظرعام پر آئی تھی اور اس میں وہ خواتین کے بارے میں فحش اور نازیبا گفتگو کرتے ہوئے سنے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ''انھیں اس ویڈیو سے سبکی کا تو سامنا کرنا پڑا ہے لیکن صدر بل کلنٹن نے جو کچھ عورتوں کے ساتھ کیا تھا،وہ اس سے بھی بدتر تھا۔میرے الفاظ ہیں لیکن ان کا عمل ہے''۔

انھوں نے ہلیری کلنٹن پر عورتوں پر جنسی حملوں میں مدد کا الزام عاید کیا کہ وہ ماضی میں عورتوں پر اپنے خاوند کے جنسی حملے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔وہ اپنے اس بیان کی حمایت میں بل کلنٹن سے متاثرہ چار خواتین کو بھی ہال میں لے کر آئے تھے اور وہ پہلی کرسیوں ہی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔

ہلیری نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان سے لگتا ہے کہ ان کے حریف وائٹ ہاؤس کے لیے بالکل ان فٹ ہیں اور اس ویڈیو سے ان کی حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر ہلیری کلنٹن پر ای میلز کے معاملے پر حملہ آور ہوتے ہوئے کہا کہ ''آپ کو خود پر شرمندہ ہونا چاہیے''۔

واضح رہے کہ امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے قریباً ایک سال تک ای میلز کی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ہلیری کلنٹن کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ البتہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے کہا تھا کہ خاتون وزیر خارجہ نے حساس مواد سے معاملہ کاری میں غفلت کا مظاہرہ کیا تھا۔

ٹاؤن ہال کے طرز پر اس مباحثے کے دوران ایسے امریکی ووٹر موجود تھے جو ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپائے ہیں کہ وہ ان دونوں امیدواروں میں سے کس کے حق میں ووٹ دیں گے۔ان سے دو ماڈریٹر سوال پوچھ رہے تھے اور وہ اسٹیج پر آزادانہ انداز میں گھوم پھر کر جواب دے رہے تھے۔بعض اوقات دونوں سوال پوچھنے والے کے قریب چلے جاتے تھے۔

68 سالہ ہلیری کلنٹن اور 70 سالہ ٹرمپ نے حاضرین کے مختلف سوالوں کے جواب دیے۔ان سے ٹیکسوں ،صحت عامہ کے نظام ،امریکا کی شام میں جاری خانہ جنگی سے متعلق پالیسی اور تعلیم کے بارے میں سوالات پوچھے گئے تھے۔

ری پبلکن صدارتی امیدوار نے ہلیری کلنٹن کے بطور وزیر خارجہ کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ ناکام رہی تھیں۔وہ بہت سخت گفتگو کرتی ہیں اور وہ واقعی سخت گو ہیں۔وہ باغیوں کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں لیکن انھیں نہیں معلوم کہ باغی کون ہیں۔ان کی خارجہ پالیسی ایک تباہی تھی''۔

ٹرمپ نے دونوں ماڈریٹرز۔۔۔ سی این این کے اینڈرسن کوپر اور اے بی سی کی مارٹھا رڈاٹز۔۔ کے مخالفانہ رویے کی بھی شکایت کی اور کہا کہ یہ مباحثہ تو تین اور ایک کے درمیان ہے۔مباحثے کے اختتام پر دونوں صدارتی امیدواروں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔اب ان کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ 19 اکتوبر کو یونیورسٹی آف نواڈا میں ہوگا۔

اس دوسرے مباحثے کے بعد بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خواتین کے حوالے سے نازیبا گفتگو پر مشتمل 11 سال پرانی ٹیپ کے منظر عام پر آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو میں روایتی گھن گرج نظر آئی ہے اور نہ ان کی بدن بولی اعتماد ظاہر کررہی تھی۔رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق ہلیری کلنٹن کو دوسرے مباحثے کے بعد 68 فی صد امریکی ووٹروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ ٹرمپ کو صرف 31 فی صد کی حمایت حاصل ہے۔