.

''کویت: امریکیوں کی گاڑی سے ٹرک کا تصادم دہشت گردی کا حملہ تھا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں ایک ٹرک اور تین امریکی فوجیوں کو لے جانے والی گاڑی میں تصادم کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ ٹرک کے مصری ڈرائیور نے جان بوجھ کر امریکی فوجیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا اور یہ دہشت گردی کا ایک حملہ تھا۔

یہ بات کویت میں امریکی سفارت خانے نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہی ہے۔ سفارت خانے نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ''بظاہر یہ واقعہ معمول کا ٹریفک حادثہ دکھائی دیا تھا لیکن درحقیقت یہ دہشت گردی کے حملے کی کوشش تھی''۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کی گاڑی پر یہ حملہ جمعرات کو کیا گیا تھا اور اس میں امریکی فوجی محفوظ رہے تھے۔ان کی گاڑی سے ٹکرانے کے بعد ٹرک کو آگ لگ گئی تھی اور ان فوجیوں نے اس کے مصری ڈرائیور کو بھی بچایا تھا۔

کویت کی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز اطلاع دی تھی کہ اس مصری ڈرائیور کو حکام نے گرفتار کر لیا ہے اور اس کے قبضے سے ایک تحریر بھی ملی تھی جو اس کی سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام ( داعش) کی بیعت سے متعلق تھی۔

اس مصری ڈرائیور کی شناخت ابراہیم سلیمان کے نام سے کی گئی ہے،اس کی عمر 28سال ہے۔اس نے ایک بیلٹ بھی پہن رکھی تھی جس میں مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد تھا۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے پانچ امریکیوں پر حملہ کیا تھا لیکن یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ آیا وہ تمام امریکی فوجی تھے یا ان میں سے بعض عام شہری تھے۔

امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت کویت میں مقیم عام امریکی شہریوں کو کسی قابل اعتبار مخصوص خطرے سے آگاہ نہیں ہے لیکن اس نے اس حملے کے بعد شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چوکنا رہیں اور اپنے ذاتی سکیورٹی پلان پر نظرثانی کریں۔

واضح رہے کہ کویتی حکام نے جولائی میں داعش کے تین سیلوں کو ناکارہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔وہ مبینہ طور پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے اور انھوں نے اہل تشیع کی ایک مسجد اور وزارت داخلہ کے ایک ہدف کو خودکش بم حملوں سے نشانہ بنانا تھا۔

گذشتہ سال جون (رمضان المبارک) میں کویت شہر میں ایک خودکش بمبار نے اہل تشیع کی ایک مسجد میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس دھماکے میں چھبیس عبادت گزار مارے گئے تھے۔یہ کویت کی تاریخ میں دہشت گردی کا بدترین حملہ تھا۔