اوپیک کے غیر رکن ممالک تیل کی عالمی مارکیٹ میں توازن میں مدد دینے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے توانائی ،صنعت اور قدرتی وسائل کے وزیر خالد الفالح نے کہا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم (اوپیک) سے تعلق نہ رکھنے والے ممالک تیل کی مارکیٹ میں توازن لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

اوپیک کے رکن اور غیر رکن ممالک کا بدھ کو استنبول میں عالمی توانائی کانفرنس کے موقع پر ایک اجلاس ہورہا ہے مگر اس میں خالد الفالح اپنی مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکیں گے۔

انھوں نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''کل یہاں استنبول میں موجود رکن ممالک کا غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوگا۔میں پہلے سے طے شدہ مصروفیات کی وجہ سے یہاں سے جارہا ہوں لیکن مجھے ان ممالک کے درمیان کوئی اتفاق رائے ہوتا ہے تو اس کے بارے میں بتا دیا جائے گا''۔

اوپیک کے رکن ممالک کے عہدے دار گذشتہ ماہ الجزائر میں منعقدہ اپنے اجلاس میں طے شدہ سمجھوتے کی تفصیل وضع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔اس اجلاس میں اوپیک نے 2008ء کے بعد پہلی مرتبہ تیل کی پیداوار میں کمی سے اتفاق کیا تھا۔

سعودی وزیر توانائی خالد الفالح نے استنبول میں اپنے روسی ہم منصب الیگزینڈر نوواک سے ملاقات کی ہے اور انھوں نے عالمی توانائی کانفرنس کو ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔انھوں نے اس موقع پر مختلف ملکوں کے عہدے داروں سے ہونے والی ملا قاتوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے نہ صرف اوپیک کے الجزائر میں طے شدہ فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا ہے بلکہ وہ اس میں پرجوش انداز میں شریک ہونے کو بھی تیار ہیں۔

انھوں نے کہا: ''ہم حمایت کی بات نہیں کررہے ہیں بلکہ ہم تیل کی مارکیٹ میں توازن لانے کے لیے کردار کی بات کررہے ہیں۔ہم توازن کے اس عمل میں تیزی لانے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ اس پر پہلے ہی عمل درآمد کیا جارہا ہے''۔

خالد الفالح کا کہنا تھا کہ ''یہ کوششیں صرف تیل کی قیمتوں سے متعلق نہیں ہیں بلکہ تیل کی صنعت کو ایک اشارہ بھیجنے سے متعلق ہیں اور وہ یہ کہ دوبارہ سرمایہ کاری شروع کردیجیے''۔

واضح رہے کہ اوپیک نے الجزائر میں گذشتہ ماہ منعقدہ اپنے اجلاس میں تیل کی یومیہ پیداوار میں ساڑھے سات لاکھ بیرل کمی اور اس کو تین کروڑ پچیس لاکھ بیرل یومیہ کی سطح پر رکھنے سے اتفاق کیا تھا۔اس وقت اوپیک کے رکن ممالک کی تیل کی یومیہ پیداوار تین کروڑ بتیس لاکھ بیرل ہے اور گذشتہ آٹھ سال میں پہلی مرتبہ اوپیک نے تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا تھا تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں