.

فرانس۔روس میں ٹھن گئی: پوتن کا دورہ پیرس ملتوی

روس بدمعاش ریاست بنتا جا رہا ہے: برطانیہ نے بھی بڑک لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک حالیہ اجلاس کے دوران شام میں قیام امن سے متعلق فرانس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو روس کی طرف سے ویٹو کیے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ادھر دوسری جانب برطانوی حکومت نے بھی روس کو شام کے معاملے میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے پر سخت تنبیہ کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روس اور فرانس کے درمیان تعلقات میں تناؤ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے جب روسی صدر ولادی میر پوتن نے اپنا مجوزہ دورہ فرانس ملتوی کر دیا ہے۔

برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی روس کی شام بارے پارلیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ روس ’بدمعاش‘ ملک بنتا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے شام میں جنگی جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قبل ازیں روسی حکومت کے ترجمان دمیتری بیسکوف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر پوتن آئندہ ہفتے پیرس کا دورہ نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کا شام کے بحران پر اپنے روسی ہم منصب فرانسو اولاند یا جرمن چانسلر کے ساتھ علاحدگی میں کوئی بات چیت کا ارادہ ہے۔ ترجمان نے ٹیلیفون پر صحافیوں کو بتایا کہ صدر نے فرانس کا دورہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مناسب وقت پر صدر خود ہی فرانس کے دورے اور فرانسو اولاند سے ملاقات کا اعلان کریں گے۔ ہمیں اس مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔

روسی صدر کا دورہ فرانس ملتوی ہونا دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافے کا عندیہ ہے۔ دونوں ملکوں کےدرمیان تناؤ اس وقت پیدا ہوا تھا جب رواں ہفتے کے آغاز میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام میں قیام امن کے لیے پیش کی گئی فرانس کی قرارداد کو روس کی طرف سے ویٹو کر دیا گیا تھا۔ فرانس اور برطانیہ نے روسی ویٹو کو شام میں قتل عام کی حمایت پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔

ادھر فرانس نے یورپی پارلیمانی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ بات چیت ناگزیر ہے مگر مذاکرات واضح اور ٹھوس ہونے چاہئیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ فرانس اور روس کے درمیان اختلافات کافی گہرے ہیں۔ شام سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فرانسو اولاند کا کہنا تھا کہ میں خود بھی اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ شام میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے نتیجے میں صدر پوتن کا مستقبل کیا ہوگا۔ انہوں نے شام میں فضائی حملے جاری رکھنے کی حمایت کرکے اسد رجیم کے جنگی جرائم کی حمایت کی ہے۔

برطانیہ کی سخت تنبیہ

ادھر برطانیہ اور روس کے درمیان بھی کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روس’سرکش‘ ریاست بنتا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ بوریس جانسن نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام میں روس کی جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پرعوامی مظاہرے جاری ہیں۔ لوگ شام میں نو فلائی زون کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے حلب میں جنگ بندی پرغور کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ صدر بشارالاسد اور روس کو شام میں قتل عام سے روکنے کے لیے سخت دباؤ میں لانے کی ضرورت ہے۔

برطانوی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام میں امدادی قافلے پر روسی طیاروں کی بمباری کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ جب روس اور شام کے بمبار طیارے حلب میں امدادی قافلوں پر بھی بمباری کریں گے تو اس کے نتیجے میں امن کی کوششیں کیسے آگے بڑھائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس، شام کے معاملے میں نہایت سخت پالیسی پرعمل پیرا اور اس نے پانچ بار سلامتی کونسل میں شام میں قیام امن کی قراردادیں ویٹو کی ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ نے شام میں جنگی جرائم میں ملوث عناصر کا محاسبہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔