.

ڈونلڈ ٹرمپ منتخب ہوگئے تو خطرناک ثابت ہوں گے: یو این انسانی حقوق کمشنر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے خبردار کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر امریکا کے صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے بیانات کے پیش نظر جان لیجیے کہ دنیا کے منظرنامے پر ایک خطرناک شخصیت ظہور پذیر ہونے جارہی ہے۔

جنیوا میں بدھ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''وہ کسی سیاسی مہم میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں لیکن امریکا کے صدارتی امیدوار کی جانب سے جاری کیے جانے والے پریشان کن بیانات کے پیش نظر یہ بہتر ہوگا کہ خطرے کی گھنٹےکی بجا دی جائے۔''

زید رعد نے خبردار کیا ہے کہ ''اگر ڈونلڈ ٹرمپ جو کچھ کہہ چکے ہیں،اس کی بنیاد پر صدر منتخب ہوجاتے ہیں اور اپنے بیانات کو تبدیل نہیں کرتے ہیں تو میں کسی شک وشبے کے بغیر یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ بین الاقوامی نقطہ نظر سے بہت خطرناک ثابت ہوں گے''۔

انھوں نے ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کے اس مطالبے کا حوالہ دیا ہے جس میں انھوں نے تشدد آمیز تفتیشی تیکنیکوں کو واپس لانے کی بات کی ہے جبکہ قانونی ماہرین ان کو تشدد قرار دے کر مسترد کرچکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ''ٹرمپ کے مسلمانوں ،تارکین وطن اور اقلیتوں ایسے کمزور طبقات پر حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کے انسانی حقوق سے محروم کیا جاسکتا ہے''۔

زید رعد نے گذشتہ ماہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ڈچ لیڈر گیرٹ وائیلڈرز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور سیاسی جنونیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے ٹرمپ کا ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن ، فرانسیسی جماعت نیشنل فرنٹ کی صدر میرین لی پین اور بریگزٹ کی مہم چلانے والے نیجل فراج سے موازنہ کیا تھا۔

اس بیان پر اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویٹالے چرکین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور یہ شکایت کی تھی کہ انسانی حقوق کے ہائی کمشنر اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کررہے ہیں اور انھیں غیرملکی سربراہان ریاست پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔تاہم ان کی اس تنقید سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ کریملن ری پبلکن صدارتی امیدوار کو جتوانے کے لیے کوشاں ہے۔

زید رعد الحسین نے اپنی اس نیوز کانفرنس میں مزید کہا کہ ''ہم کوئی سیاسی دفتر نہیں ہیں ،اس لیے ہم سیاست میں الجھنے نہیں جارہے ہیں لیکن جہاں یہ لوگوں کے حقوق پر اثرانداز ہوگی اور خاص طور پر کمزور گروپ متاثر ہوں گے تو ہم بولیں گے اور جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں ،اس کو دبانے کا کوئی جواز نہیں ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ان کا دفتر اظہار رائے کی آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ہمارا یقین ہے کہ یہ صرف حق ہی نہیں ہے بلکہ طاغوت کے خلاف ایک بڑا چیک بھی ہے''۔

انھوں نے اس امر کی بھی نشان دہی کی ہے کہ ''مقبولیت پسند عام طور پر یہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر آپ ایک مقبول لیڈر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو آپ ان لوگوں پر تنقید کررہے ہوتے ہیں جو اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ بات غلط ہے''۔