شام میں امن کے لیے لوزان اور لندن میں عالمی اجلاس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں جاری خانہ جنگی اور قتل عام روکنے کے لیے عالمی قوتیں آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ میں دو نئے اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کررہی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ اتوار کو برطانیہ کی میزبانی میں شام سے متعلق ایک اہم اجلاس لندن میں طلب کیا گیا ہے۔ جب کہ ہفتے کے روز امریکی اور روسی وزراء خارجہ لوزان میں بھی ایک اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق لندن میں ہونے والے عالمی اجلاس سے ایک روز قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں امریکی اور روسی وزراء خارجہ عالمی سفارت کاروں کی موجودگی میں ایک اہم ملاقات بھی کریں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جون کیربی نے ایک بیان میں کہا کہ لندن اور سوئٹرزلینڈ میں ہونے والے اجلاس میں وزیر خارجہ جان کیری شرکت کریں گے۔ ان دونوں اجلاسوں کے انعقاد کا مقصد شام میں جاری لڑائی روکنے کے لیے عالمی طاقتوں کے موقف میں قربت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا شام میں تشدد ختم کرتے ہوئے جنگ سے متاثرہ افراد تک فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کا خواہاں ہے۔

سوئٹرزلینڈ کے شہر لوزان میں ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سیرگئی لافروف سمیت کئی دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ اور خطے کے ممالک کے سفارت کار شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں یورپی مندوبین، امریکا اور روس شام سے متعلق اپنے اپنے موقف میں لچک کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ بحران کے حل کے لیے کسی موقف پر اتفاق کیا جا سکے۔

روسی وزیرخارجہ لافروف نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ وہ لوزان اور لندن کےاجلاس میں شرکت کریں گے، ہفتے کے روز ہونے والےاجلاس میں سعودی عرب، ترکی اور قطر کے مندوبین کی شرکت بھی متوقع ہے۔

اسی سیاق میں العربیہ کو اپنے ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ شام کے بحران کے حل میں دلچسپی لینے والےخطے کے ممالک کو بھی ان اجلاسوں میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاہم ان ممالک کی طرف سے حتمی طور پر کسی موقف کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی طاقتوں نے شام میں قیام امن بالخصوص حلب شہر میں بمباری روکنے کے لیے یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں شروع کی ہے جب روس اورامریکا کےدرمیان جنگ بندی کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں اور روسی فوج نے حلب پر دوبارہ وحشیانہ حملے شروع کردیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں