.

چار خواتین کا ٹرمپ کی جانب سے ہراسیت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے صدارتی انتخابات کا موسم جنسی اسکینڈلوں سے بھرپور ہے۔ تازہ ترین انکشاف میں دو خواتین نے امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کو بتائی گئی تفصیلات میں دعوی کیا ہے کہ ٹرمپ نے ان کو ہراساں کیا۔

مینڈی مکجلفری نامی ایک تیسری خاتون نے "پام بیچ پوسٹ" اخبار کو دیے گئے بیان میں دعوی کیا ہے کہ 13 سال قبل ٹرمپ نے اس کے ساتھ ملامست کی تھی جب کہ چوتھی خاتون کا نام کیسنڈرا نیوز ہے اور وہ امریکا کی سابق ملکہ حسن رہ چکی ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" میں شائع ہونے والے الزامات کو یکسر مستر کر دیا ہے۔

" وہ آکٹوپس کی مانند تھا "

نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے 74 سالہ خاتون جیسیکا لیڈز نے بتایا کہ اس کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ تقریبا تیس سال پرانا یعنی کہ 80ء کی دہائی کا ہے۔ وہ نیویارک جانے والی ایک پرواز میں طیارے کے اول درجے میں ٹرمپ کے برابر والی نشست پر بیٹھی تھی۔ اڑان کے تقریبا 45 منٹ بعد ٹرمپ نے دونوں نشستوں کے درمیان رکاوٹ کو اونچا کردیا اور جیسیکا کے ساتھ لمس شروع کر دیا۔ جیسیکا کے مطابق "وہ آکٹوپس کی مانند تھا جس کے ہاتھ ہر طرف حرکت کر رہے تھے"۔

جیسیکا مزید نشانہ بننے سے بچنے کے لیے اپنی نشست تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئی تاہم اس نے طیارے پر سرکاری طور سے شکایت پیش نہیں کی۔ جیسیکا نے نے ہراسیت کے اس واقعے کا ذکر اپنے 4 رشتے داروں سے کیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے شکار کو حواس باختہ کر دیا

نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرنے والی دوسری خاتون کا نام راشيل كروكس ہے۔ کروکس کے مطابق ٹرمپ نے جب اس کے ساتھ دست درازی کی کوشش کی تو اس کی عمر 22 برس تھی۔ وہ ایک کمپنی میں بطور استقبالیہ میزبان کے ملازمت کرتی تھی جس کا دفتر مین ہیٹن پر ٹرمپ ٹاور کے اندر واقع تھا۔ کروکس کے مطابق 2005 میں ایک روز صبح کے وقت لفٹ کے سامنے اس کی ٹرمپ سے ملاقات ہوئی۔ کروکس نے اس خیال سے مصافحہ کرلیا کہ وہ جس کمپنی میں کام کرتی ہے اس کے ٹرمپ کے ساتھ کام کے حوالے سے تعلقات ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے تیزی کے ساتھ پہلے اس کے گالوں پر بوسہ کیا اور پھر اچانک ہونٹوں کا بوسہ لے لیا۔ کروکس اس یک دم حرکت سے حواس باختہ ہو کر رہ گئی۔

مشہور شخصیات خواتین کے ساتھ ہر قسم کے سلوک کا حق رکھتی ہیں

ٹرمپ نے 2005 سے متعلق افشا ہونے والی وڈیو ٹیپ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک "مقناطیس" ہے جو انہیں تیزی سے خوب صورت خواتین کے پاس کھینچ کر لے جاتا ہے اور فورا ان خواتین کو بوسہ دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے باور کرایا کہ "مشہور شخصیات کا حق ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں"۔

گزشتہ ہفتے شرم ناک وڈیو کے افشا ہونے کے بعد رائے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف نیچے آیا ہے اور امریکی رائے عامہ کو پہنچنے والے دھچکے کو کم کرنے کے سلسلے میں ٹرمپ کی تمام تر تحریری اور تصویری معافیاں ناکام ہو گئیں۔

مزید ممکنہ اسکینڈلوں کے انکشاف سے صورت حال مزید ابتر ہو جائے گی۔