ایران پر کُردوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق سے متصل ایران کے جنوب مغربی صوبہ کرمان شاہ کے شہر ثلاث بابا جانی میں حال ہی میں ایرانی فوج کی ایک کارروائی کے دوران 12 کرد کارکنوں کی ہلاکت کے بعد تہران پر کردوں کے خلاف کارروائیوں میں مہلک اور عالمی سطح پر ممنوعہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں کردوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’کردستان فری لائف‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوج کرد اپوزیشن کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے ساتھ ساتھ کرد آبادی کے خلاف کارروائیوں میں کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے۔

کرد تنظیم نے اپنی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا ہے کہ چند روز قبل ایرانی فوج کے ایک وحشیانہ کارروائی کے دوران اس کے بارہ کارکنوں کو ہلاک کردیا تھا۔ تنظیم ایرانی فوج کی اس کارروائی کا انتقام لے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب فریقین میں پہلے سے جنگ بندی موجود ہے تو ایرانی فوج اس جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیوں کررہی ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب نے گذشتہ منگل کو جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فوج نے عراق کی سرحد کے قریب ایک دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کے بارہ جنگجو ہلاک کردیے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر محمد باکبور نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کو بتایا کہ تھا کہ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی تھی جب عراق کی سرحد سے مشتبہ کرد جنگجو ایران کی سرزمین میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ایرانی فوجی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات آئی تھیں۔

کرد تنظیم کے سیاسی ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی دشمن نے اس کے متعدد کارکنوں کو فضائی اور زمینی آپریشن کے دوران قتل کیا ہے اور ان کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں