ہیومن رائٹس کا ایران کو کھیلوں کی میزبانی سے محروم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے والی بال کی بین الاقوامی فیڈریشن کو تحریر کیے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ فیڈریشن کو چاہیے کہ جب تک ایران والی بال میچوں میں خواتین کی آمد کو شامل نہیں کرتا، اس وقت تک ایران کا بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کا حق روک دینا چاہیے"۔

نیویارک میں واقع تنظیم کے صدر دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2016 میں تہران میں فیڈریشن کے میچوں کے منتظمین نے خواتین کو ٹکٹ خریدنے اور میچوں میں آزادانہ طور پر حاضر ہونے سے روک دیا تھا جو یقینی طور پر عدم امتیاز کے بنیادی اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ایران والی بال کی عالمی چیمپیئن شپ اور ساحلی والی بال کی چیمپیئن شپ کی میزبانی کے حصول کی دوڑ میں شریک ہے۔

"ہیومن رائٹس واچ" کئی مرتبہ فیڈریشن کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ مئی 2016 میں فیڈریشن کی سربراہ کے نام خط میں اس نے جزیرہ کیش میں 2016 کی چیمپین شپ سے خواتین تماشائیوں کو دور رکھنے کی سرکاری طور پر تحقیق کا مطالبہ کیا تھا۔

تنظیم کے مطابق ایرانی خواتین 2012 سے ایران میں والی بال میچوں کے ٹکٹ خریدنے سے محروم ہیں۔ جون 2014 میں انسانی حقوق کی ایک طالبہ غنچہ قوامی اور اور دیگر خواتین کو آزادی اسٹیڈیم میں والی بال کا میچ دیکھنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اکثر خواتین کی رہائی کے باوجود غنچہ پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کا الزام عائد کر کے تقریبا 5 ماہ بدنام زمانہ ایون جیل میں رکھا گیا۔

فروری 2016 میں والی بال کی بین الاقوامی فیڈریشن نے "ہیومن رائٹس واچ" کو تصدیق کی تھی کہ جزیرہ کیش کی چیمپیئن شپ تمام عمر اور جنسوں کے لیے کھلی ہوگی۔ تاہم ایرانی خواتین کے مطابق جن خواتین نے میچوں میں حاضری کی کوشش کی ان کو روک کر واپس بھیج دیا گیا۔

اگست میں ایرانی والی بال کی ٹیم نے پہلی مرتبہ اولمپک کھیلوں میں شرکت کی۔ بعض ایرانی خواتین اپنی قومی ٹیم کو دیکھنے کے لیے برازیل گئیں اور بعض نے بینر اٹھا لیے جن پر ایران میں والی بال میچوں میں خواتین تماشائیوں پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے بیان کے اختتام پر والی بال کی بین الاقوامی فیڈریشن سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امتیازی سلوک سے نمٹنے کے لیے منصوبہ ترتیب دے اور ایرانی حکام کو آگاہ کر دے کہ خواتین تماشائیوں کو اجازت نہ دینے کی صورت میں مستقبل میں اس کو بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی ملنا ممکن نہیں رے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں