.

امریکا میں دانستہ طیارہ گرائے جانے کی تحقیقات

مشاق طیارہ اردنی ہواباز نے گرایا: ٹرینر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی خفیہ ادارے ’ایف بی آئی‘ نے ایک مشاق طیارے کے گرائے جانے سے متعلق سامنے آنے والے تازہ واقع کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ایک اردنی نوخیز ہواباز نے دو انجنوں والا مشاق طیارہ اڑاتے ہوئے دانستہ طور پر حادثے سے دوچارکردیا تھا جس کے نتیجے میں اردنی پائلٹ ہلاک اور اس کا ٹرینرشدید زخمی ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق یہ واقعہ امریکا کی شمال مشرقی ریاست کونیٹیکٹ کے شہر مشرقی ہاروڈ میں پیش آیا۔ مشاق طیارے میں اردنی پائلٹ 28 سالہ فراس محمد فریتخ کے ہمراہ اس کا ٹرینر اور Harford flight School نامی انسیٹیٹیوٹ کا ایک کوچ بھی تھا جو شدید زخمی ہوا ہے تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔

مقامی خبر رساں اداروں اور اخباری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اردنی ہواباز نے دو انجنوں والے مشاق طیارے’ Piper PA- 34 Seneca‘ کو دانستہ طور پر حادثے سے دوچار کیا جس کے نتیجے میں اس اپنی موت بھی واقع ہوئی۔'

نیویارک کی ’Heavy‘ نیوز ویب سائیٹ کے مطابق حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اردنی ہواباز کے فلیٹ پر پولیس نے چھاپہ مارا مگر اس کی رہائش گاہ سے ایسی کوئی مشکوک چیزبرآمد نہیں ہوسکی۔ تاہم پولیس اور خفیہ ادارہ ایف بی آئی واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہے ہیں۔

دستیاب معلومات سے پتا چلا ہے کہ داسنتہ طور پر طیارے کو حادثے سے دوچار کرنے والے اردنی ہواباز اور اس کے نگران کےدرمیان طیارے کے کاک پٹ میں لڑائی بھی ہوئی۔ اس کے نگران نے اردنی ہواباز کو طیارے کو احتیاط سے اڑانے کی تاکید کی مگر اس نے مزید بے احتیاطی شروع کردی جس پردونوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

اردنی شہری فریتخ سنہ 2012ء میں ہوابازی سیکھنے کے لیے امریکا آیا تھا جہاں اسے ابتدائی طور پر ایک انجن والے مشاق طیارے اڑانے کی اجازت تھی مگر گذشتہ منگل کو اس نے دو انجن والا طیارہ اڑایا۔ اس دوران اس نے خلاف معمول طیارے میں گڑ بڑ شروع کردی جس کے نتیجے میں وہ حادثے سے دوچار ہوگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے میں اردنی ہواباز کے ہمراہ سوار امریکی پائلٹ نے فریتخ کی جانب سے طیارے کو حادثے سے دوچار کرنے کی کوشش کے دوران طیارے پر قابو پانے کی کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ نگران ہواباز امریکی کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر لگتا ہے کہ فریتخ خود کشی کا ارادہ رکھتا تھا تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ انفرادی خود کشی کرنا چاہتا تھا یا کسی مجرمانہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی پر تھا۔

مقامی پولیس سربراہ لیفٹیننٹ جوشوا لیٹوین کا کہنا ہے کہ انہیں طیارے کے حادثے کی وجوہات کے بارے میں کوئی ٹھوس وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ طیارے میں موجود گائیڈ پائلٹ کے چچا زاد نے ایف بی آئی سے بات چیت کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کا پورا خاندان معاون ہواباز کو ہیرو سمجھتا ہے کیونکہ اس نے ممکنہ طور پر دہشت گردانہ کارروائی ناکام بنائی ہے۔

حادثے کے بعد طیارہ ایک شاہراہ عام پر گرا اور بجلی کے ایک کھمبے سے بھی ٹکرایا جس کے نتیجے میں طیارے میں آگ بھڑک اٹھی تھی.