.

اطالوی مافیا کی نوادرات کے بدلے لیبیا میں داعش کو اسلحے کی فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اٹلی کے مافیا گروپ اسمگل شدہ اور لوٹے گئے آثاریاتی نوادرات کے بدلے لیبیا میں موجود داعش تنظیم کے جنگجوؤں کو ہتھیار پیش کر رہے ہیں۔ یہ گروپ ان نوادرات کو دوبارہ فروخت کر دیتے ہیں اور ایشیا اور روس میں موجود شوقین حضرات ان کو ہاتھوں ہاتھ خرید لیتے ہیں۔

اٹلی کے اخبار "لا ستامبا" کے مطابق اٹلی کے جنوبی علاقے "كیلابریا" میں مافیا کے زیر انتظام جرائم پیشہ نیٹ ورک مالدووا اور یوکرین سے "كلاشنكوف" راکٹ گرینیڈ اور راکٹ لانچر خریدتا ہے اور پھر ان کو روسی مافیا کے تعاون سے اسمگل کر کے آخرکار لیبیا کے شہر سرت میں موجود داعش تنظیم تک پہنچا دیتا ہے۔

اطالوی اخبار کا کہنا ہے کہ اٹلی کے مافیا گروپ ہتھیاروں کے بدلے داعش تنظیم سے یونان اور رومانیہ کے آثاریاتی نوادر حاصل کرتے ہیں جو تنظیم کے جنگجوؤں نے لیبیا میں لڑائی کے دوران چرائے یا لوٹے تھے۔

مافیا کے ارکان نے اخبار کو ایک مجسمے کا بہت بڑا سر دکھایا جو قدیم یونانی زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان ارکان نے بتایا کہ مذکورہ سر 8 لاکھ یورو میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا سے چوری شدہ آثاریاتی نوادرات کو کارگو کے ذریعے اٹلی کے جنوب میں "کیلابریا" کے ساحلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان نوادرات کو چین ، روس اور جاپان کے علاوہ خلیجی عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے شوقین اور صاحب ثروت افراد کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔

ایک اطالوی صحافی کی تیار کردہ رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ یہ سوچ پھیل چکی ہے کہ داعش تنظیم نے لیبیا میں مقامی ملیشیائیں تشکیل دی ہیں جو لوٹ مار اور اسمگلنگ کی کارروائیاں کرتی ہیں۔ اس طرح تنظیم اسمگل شدہ آثاریاتی نوادرات کی تجارت کے ذریعے منافع کمانے کی کوشش کرتی ہے۔ داعش تنظیم کی جانب سے یہ تجربہ اس سے قبل شام اور عراق میں کیا جا چکا ہے۔

لیبیا میں اس وقت 5 ایسے آثاریاتی مقامات ہیں جن کا سرکاری طور پر اقوام متحدہ کی تنظیم "یونیسکو" میں اندراج ہے کہ یہ انسانی ورثے کے حامل مقامات ہیں۔

دوسری جانب "لا ستامبا" اخبار نے اٹلی میں سکیورٹی اداروں کے تحقیق کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ یہ شبہات رکھتے ہیں کہ مافیا گروپ "داعش" تنظیم کو اسلحے کی فروخت میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ لیبیا میں "داعش" تنظیم کا محدود علاقوں پر قبضہ ہے۔ تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شام اور عراق میں تنظیم کے جنگجوؤں کی ایک بہت بڑی تعداد کچھ عرصہ پہلے دونوں ملکوں میں شدید ضربوں کے نتیجے میں فرار ہو کر لیبیا منتقل ہوچکی ہے۔ یہاں وہ "سرت" شہر کو گڑھ بنائے ہوئے ہیں اور لییا کی افواج تنظیم کو نکالنے کے لیے سخت معرکوں میں مصروف عمل ہے۔