.

"موصل آزادی" آپریشن شروع.. داعش کا جنگجوؤں سے انخلاء کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے پیر کو صبح سویرے موصل شہر کو داعش تنظیم سے آزاد کرانے کے عسکری آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا جب کہ تنظیم کے شہر کے مشرقی حصے سے انخلاء کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں العبادی نے باور کرایا کہ اہلیان موصل کو داعش کی دہشت گردی اور گرفت سے آزاد کرنے کے لیے آج آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ موصل شہر میں صرف عراقی فوج اور پولیس داخل ہوں گی۔

ادھر نینوی صوبے میں آپریشنز ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ موصل آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی فوج نے شہر میں تنظیم کے ٹھکانوں پر اسمارٹ بم برسانا شروع کر دیے۔

العربیہ نیوز چینل کے نمائندے کے مطابق شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ نمائندے نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ داعش تنظیم نے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اپنے ارکان کو شہر سے نکل جانے کی ہدایات دی ہیں۔

فیصلہ کن لمحہ : واشنگٹن

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کا کہنا ہے کہ موصل کو داعش تنظیم سے آزاد کرانے کے لیے شروع کیا جانے والا عسکری آپریشن شدت پسند تنظیم کے خلاف معرکے کا "فیصلہ کن لمحہ" ہے۔ انہوں نے کہا کہ " ہمیں پورا اعتماد ہے کہ ہمارے عراقی شراکت دار ہمارے مشترکہ دشمن کو ہزیمت سے دوچار کریں گے اور موصل اور بقیہ عراق کو داعش کے وحشیانہ پن اور عداوت سے آزاد کرائیں گے"۔

طویل اور مشکل معرکہ : بین الاقوامی اتحاد

اس دوران داعش کے خالف بین الاقوامی اتحاد کے نئے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل اسٹیفن ٹاؤنسینڈ نے پیر کے روز کہا ہے کہ موصل شہر کی واپسی میں کئی ہفتے یا شاید اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ معرکہ طویل اور کٹھن نظر آرہا ہے تاہم عراقی تیار ہیں اور ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں"۔

ٹاؤنسینڈ کے مطابق بین الاقوامی اتحاد نے اس آپریشن کے لیے عراقی افواج کے 54 ہزار سے زیادہ اہل کاروں کو تیار کیا ہے۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی اتحاد مرکزی طور پر فضائی حملوں کے علاوہ عراقی فوج کو تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہتھیار اور ضروری سازوسامان سے لیس بھی کر رہا ہے۔