.

’ایران کے سائنس و ٹیکنالوجی کے مرتبے کونظرانداز کرنا گناہ کبیرہ‘

خلیجی ممالک کو سائنسی میدان میں ایران پربالا تری کیوں دی گئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے ایک تازہ رپورٹ میں اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ سائنسی میدان میں عالمی سطح پر جاری کردہ ایک رپورٹ میں خلیجی عرب ملکوں کو ایران پر فوقیت کیوں دی گئی ہے اور ایران کی سائنسی ایجادات اور سائنس کے شعبے میں خدمات کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مطابق ’تسنیم‘ نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں سائنسی تحقیقات کے میدان میں ایران کا نام عرب ملکوں سے بہت پیچھے رکھنے اور خلیجی ممالک کو سائنسی شعبے میں 11 نمبر پر رکھنے پر سخت تنقید کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فہرست اور درجہ بندی کے اہتمام میں جعل سازی کے ساتھ ساتھ ایران کی سائنسی خدمات کو نظرانداز کرنے کی دانستہ کوشش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرب ممالک کو سائنسی میدان میں ایران پر فوقیت اور بالاتری دینا گناہ کبیرہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر کے معاون برائے سائنس وٹیکنالوجی سونار ستاری اور وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فرھادی نے اپنے طور پر ایران کی سائنسی تحقیقات کے حوالے سے پوری تفصیلات فراہم کی تھیں مگر عالمی اداروں کی جانب سے ایران کی سائنسی خدمات کو فراموش کرتے ہوئے ایران کا سائنسی مقام بہت پیچھے رکھا گیا جب کہ ایران پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، ملائیشیا، قطر، کویت، اومان اور آرمینیا جیسے ملکوں کو فوقیت دی گئی ہے۔ ایران کو صرف کینیا سے دو درجے آگے رکھا گیا ہے جو کہ سرا سر زیادتی ہے۔

تسنیم کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سائنسی تحقیقات کے حوالے سے کی گئی حالیہ درجہ بندی میں ایران کے اصل مقام کو چھپانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ جعل سازی کے ذریعے عرب ملکوں کو آگے لا کر ایران کو پیچھے دھکیلا گیا ہے حالانکہ ایران نے عرب ملکوں سے کہیں زیادہ بہتر سائنسی خدمات انجام دی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے چند ماہ قبل ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں 42 پوائنٹ آگے چلا گیا ہے۔ سنہ 2014ء میں ایران کا نمبر 120 واں تھا جوکہ سنہ 2016ء میں ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں داخل ہوتے ہوئے 78ویں نمبر پر آگیا ہے۔

حال ہی میں ایرانی صدر کے معاون برائے سائنس وٹیکنالوجی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران خطے میں بھارت اور کزاکستان کے بعد سائنسی ترقی کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے اور عالمی سطح پر ایران نے 28 پوائنٹس کی ترقی کی ہے جس کے بعد ایران Global Innovation Index میں مزید آگے چلا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کو عالمی سائنسی تحقیقات کی فہرست میں سنہ 2011ء میں شامل کیا گیا تھا۔ اس وقت جاری کردہ رپورٹ میں کل 120 ملکوں کی فہرست میں ایران کا 95 واں نمبر تھا۔ سنہ 2012ء میں 141 میں 104 ویں، 2013ء میں 142 میں 113 ویں، 2014ء میں 120 ویں، 2015ء میں 141 کے انڈیکس میں 106 ویں اور رواں سال 140 ممالک کی فہرست میں ایران کا نمبر 128 پر رہا ہے۔

گویا ایران نے سنہ 2011ء کے بعد سائنسی میدان میں ترقی معکوس کی طرف سفر کیا۔ وہ 78 کی فہرست سے پیچھے ہٹ کر 128 ویں نمبر پرآگیا ہے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایران کا تقابل وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ممالک بالخصوص بھارت، کازکستان، تاجکستان، قرغیزستان، ازبکستان،سری لنکا، بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے۔