.

البغدادی فضائی حملے میں محفوظ، اہم جنگجو کمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ دولت اسلامی ‘داعش‘ کے خلاف جیسے جیسے گھیرا تنگ ہونے لگا ہے جنگجو گروپ کے اہم کمانڈروں کی ہلاکتوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

العربیہ ڈٓٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز روس اور دیگر ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ عراق کےشہر موصل میں ایک فضائی حملے میں داعش کے ایک اہم اجلاس پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کا ایک اہم ساتھی اور العسرہ ایلیٹ فورس کا سربراہ ہلاک ہوگیا تاہم بمباری سے چند لمحے البغدادی وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ البغدادی اورداعش کی ’’العسرہ یونٹ‘‘ کا سربراہ ابو موسیٰ المغربی رتل کے مقام پر جنگل میں کسی خفیہ میٹنگ میں مصروف تھے کہ اس دوران ان پر فضائی حملہ کیا گیا۔

روسی خبر رساں ایجنسی ’سپوٹنیک‘ نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حملے میں البغدادی کا قریبی ساتھی ابو موسیٰ المغربی سمیت متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں تاہم البغداد موقع سے فرار میں کامیاب ہوگیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ البغدادی اور اس کے ساتھ موصل میں آپریشن سے قبل ہی کسی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے تھے۔ وہ رتل کے مقام پر ایک میٹنگ میں مصروف تھے کہ اس دوران ایک فضائی حملہ کیا گیا۔ فضائی حملے میں ابو موسیٰ المغربی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے مگر داعشی خلفیہ کی فرار کی اطلاعات ہیں مگر حتمی طور پر اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا اس کے بعد البغدادی کہاں گیا۔